صحیح مسلم - جہاد کا بیان - حدیث نمبر 2992
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ کَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ شَاهِدَاکَ أَوْ يَمِينُهُ
اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابو وائل، عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے کسی کا مال دبانے کی خاطر جھوٹی قسم کھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے پھر اعمش کی حدیث کی طرح ذکر کیا مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میرے اور ایک آدمی کے درمیان ایک کنوئیں کا جھگڑا تھا ہم نے یہ جھگڑا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا آپ ﷺ نے مدعی سے فرمایا کہ تو گواہ پیش کر ورنہ مدعا علیہ پر قسم ہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah that he heard the Prophet ﷺ saying: He who took an oath in order to entitle himself (to the possession) of a property, whereas he is a liar, would meet Allah in a state that He would be very much angry with him. Then the remaining part of the hadith was narrated as transmitted by Amash but with the exception of these words: There was a dispute between me and another person in regard to a well. We referred this dispute to the Messenger of Allah ﷺ . Upon this he remarked: Either (you should produce) two witnesses (to support your contention) or his oath (would be accepted as valid).
Top