سنن النسائی - نمازوں کے اوقات کا بیان - حدیث نمبر 3914
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ جَابِرًا عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّی يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْکُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاکِمِينَ فَقَالَ جَابِرٌ لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ قَالَ سُفْيَانُ وَکَذَبَ فَقُلْنَا لِسُفْيَانَ وَمَا أَرَادَ بِهَذَا فَقَالَ إِنَّ الرَّافِضَةَ تَقُولُ إِنَّ عَلِيًّا فِي السَّحَابِ فَلَا نَخْرُجُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مِنْ وَلَدِهِ حَتَّی يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنْ السَّمَائِ يُرِيدُ عَلِيًّا أَنَّهُ يُنَادِي اخْرُجُوا مَعَ فُلَانٍ يَقُولُ جَابِرٌ فَذَا تَأْوِيلُ هَذِهِ الْآيَةِ وَکَذَبَ کَانَتْ فِي إِخْوَةِ يُوسُفَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
سلمہ بن شبیب، حمیدی، سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ایک آدمی نے جابر سے اللہ کے قول فلن ابرح الارض حتی یاذن لی ابی اویحکم اللہ لی وھو خیر الحاکمین کی تفسیر پوچھی تو جابر نے کہا کہ اس آیت کی تفسیر ابھی ظاہر نہیں ہوئی سفیان نے کہا کہ اس نے جھوٹ بولا ہم نے کہا کہ جابر کی اس سے کیا مراد تھی سفیان نے کہا کہ رافضی یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بادلوں میں ہیں اور ہم ان کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ نہ نکلیں گے یہاں تک کہ آسمان سے حضرت علی آواز دیں گے کہ نکلو فلاں کے ساتھ جابر کہتا ہے کہ اس آیت کی تفسیر یہ ہے اور اس نے جھوٹ کہا ہے کہ یہ آیت یوسف کے بھائیوں کے متعلق ہے۔
Salamah bin Shabīb narrated to me, al-Humaydī narrated to us, Sufyān narrated to us, he said, I heard a man ask Jābir about the verse: {Thus I will never depart from the land until my father permits me or Allah decides for me, and He is the best of Judges}[Yūsuf: 80]. Jābir said: ‘An interpretation has not come to me about these [verses]’. Sufyān said: ‘He lied’. We said to Sufyān: ‘What did he mean by this?’ [Sufyān] said: ‘Indeed the Rāfiḍah say, ‘Alī is in the clouds and we will not emerge along with he who will emerge from his children [the Khalīfah] until a caller calls from the heaven, meaning Alī: ‘Ride out along with so-and-so [meaning the promised Mahdī]’. Jābir said, ‘that is an interpretation for these verses’, and he would lie as they were regarding the brothers of Yūsuf, peace be upon him’.
Top