صحیح مسلم - - حدیث نمبر 3282
و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَعَلَ يُفْتِي وَلَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ادْنُهْ فَدَنَا الرَّجُلُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، سعید بن ابی عروبہ بن انس بن مالک، حضرت نظر بن انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا تھا حضرت ابن عباس فتوی تو دیتے تھے اور یہ نہیں کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا ہے یہاں تک کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ میں مصور ہوں تصویریں بناتا ہوں تو حضرت ابن عباس ؓ نے اس آدمی سے فرمایا قریب ہوجا وہ آدمی قریب ہوگیا تو حضرت عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو آدمی دنیا میں تصویر بناتا ہے تو قیامت کے دن اسے اس بات پر مجبور کردیا جائے گا کہ اس تصویر میں روح پھونک اور وہ روح نہیں پھونک سکے گا۔
Anas bin Malik (RA) said: I was sitting with Ibn Ahbas when he gave religious verdicts but he did not say that it was Allahs Messenger ﷺ who had said that. However when a man said to him (Ibn Abbas): I am the painter of these pictures. Ibn Abbas said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He who painted pictures in the world would be compelled to breathe soal in them on the Day of Resurrection, but he would not be able to breathe soul (in them).
Top