Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 3903
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما قرية أتيتموها وأقمتم فيها فسهمكم فيها وأيما قرية عصت الله ورسوله فإن خمسها لله ولرسوله ثم هي لكم . رواه مسلم
مال فئی کا حکم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس بستی میں تم جاؤ اور اس میں قیام کرو تو اس ( کے مال) میں تمہارا حصہ ہے اور جو بستی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تو اس ( کے مال) میں پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور بقیہ تمہارا ہے۔ ( مسلم)
تشریح
اور اس میں قیام کرو کا مطلب یہ ہے کہ تم جہاد کے لئے کسی بستی میں گئے اور بستی میں گئے اور بستی والے لڑے بھڑے بغیر اس بستی کو چھوڑ کر بھاگ گئے یا انہوں نے تمہارے ساتھ مصالحت کر کے اس بستی اور اپنے آپ کو تمہارے حوالے کردیا اور تم اس میں قیام پذیر ہوگئے۔ تو اس میں تمہارا حصہ ہے کے ذریعہ یہ واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ بستی سے جو مال و اسباب تمہارے ہاتھ لگے گا وہ صرف تمہارا حق نہیں ہوگا بلکہ تمہارے اور ان مجاھدین کے درمیان مشترک رہے گا جو تمہارے ساتھ جہاد کے لئے نہیں جاسکے ہیں بلکہ اپنے گھروں میں رہ گئے ہیں کیونکہ اس طرح کا مال ( جو مسلمانوں کو کفار سے جنگ و جدل کے بغیر حاصل ہو) فئی کہلاتا ہے اور مال فئی کا حکم یہ ہے کہ وہ صرف انہی مجاھدین کے لئے مخصوص نہیں ہوتا جو جنگ میں شریک ہونے کے لئے اپنے گھروں سے نکلے ہوں۔ جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے الخ کا مطلب یہ ہے کہ جس بستی کے لوگوں نے نہ تو دعوت اسلام قبول کی اور نہ مصالحت کے ذریعہ اپنے آپ کو تمہارے حوالے کیا بلکہ تمردو سرکشی کی راہ اختیار کر کے تمہارے ساتھ جنگ کی اور تم نے لڑائی اور طاقت کے ذریعہ ان پر غلبہ حاصل کرلیا تو اس صورت میں اس بستی سے جو مال اسباب ہاتھ لگے گا وہ مال غنیمت کہلائے گا، اس مال میں سے پہلے خمس یعنی پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے علیحدہ کردیا جائے گا اور پھر جو باقی بچے گا وہ اس جنگ میں شریک ہونے والے مجاہدین کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خمس صرف مال غنیمت میں سے نکالا جائے گا مال فئی میں سے بھی نکالا جائے اس اعتبار سے یہ حدیث حضرت امام شافعی کے خلاف مسلک کی دلیل ہے۔ بعض حنفی علماء نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے پہلے جزو سے مراد وہ صورت ہے جس میں مسلمانوں نے کسی آبادی و بستی کو اس حال میں فتح کیا ہو کہ ان کے ساتھ رسول کریم ﷺ نہ رہے ہوں اور دوسرے جزو سے مراد وہ صورت ہے جس میں مسلمانوں نے کسی آبادی وبستی کو اس حال میں فتح کیا ہو کہ آنحضرت ﷺ بذات خود اس جہاد میں شریک رہے ہوں، لہذا اس دوسری صورت میں آنحضرت ﷺ خمس وصول فرماتے تھے اور باقی لشکر والوں کے درمیان تقسیم ہوتا تھا۔
Top