مشکوٰۃ المصابیح - جنت اور اہل جنت کے حالات کا بیان - حدیث نمبر 5524
وعن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض والفردوس أعلاها درجة منها تفجر أنهار الجنة الأربعة ومن فوقها يكون العرش فإذا سألتم الله فاسألوه الفردوس رواه الترمذي ولم أجده في الصحيحين ولا في كتاب الحميدي
جنت کے درجات
اور حضرت عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں ان میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ زمین وآمسان کے درمیان ہے اور فردوس صورۃ اور معنی وہ اپنے درجات ( کی بلندی) کے اعتبار سے سب جنتوں سے اعلی و برتر ہے اور اسی فردوس سے بہشت کی چاروں نہریں نکلتی ہیں اور فردوس ہی کے اوپر عرش الہٰی ہے پس جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگو ( جو سب سے اعلی و برتر ہے) اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور مجھے یہ حدیث نہ تو صحیین میں ملی ہے اور نہ کتاب حمیدی میں۔

تشریح
سو درجے میں سو کا عدد تعین وتحدید کے لئے نہیں بلکہ کثرت کے اظہار کے لئے بھی ہوسکتا ہے اس کی تائید حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس مرفوع روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو بیہقی نے نقل کیا ہے اور جس میں جنت کے درجات کی تعداد قرآن کی آیتوں کے برابر بیان کی گئی ہے روایت کے الفاظ یہ ہیں عدد درج الجنت عدد ای القران فمن دخل الجنۃ من اہل القران فلیس فوقہ درجۃ اور یہ بھی ممکن ہے کہ سو سے یہ خاص عدد ہی مراد ہو اور اس کے ذریعہ جنت کے کثیر درجات میں صرف ان سو درجوں کا بیان کرنا مقصود ہو، جن میں سے ہر دو درجوں کا درمیانی فاصلہ مذکور فاصلہ سے کم یا زیادہ ہوگا دیلمی نے مسند فردوس میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ مرفوع روایت نقل کی ہے کہ جنت میں ایک درجہ وہ ہے جس تک اصحاب ہموم کے علاوہ اور کوئی نہیں پہنچے گا فردوس جنت کا نام ہے اور یہ نام قرآن کریم میں بایں طور مذکور ہے کہ (اُولٰ ى ِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ 10 الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 11) 23۔ المؤمنون 11-10) یہی ( پاک طینت پاک کردار) لوگ ( جن کا پچھلی آیتوں میں ذکر ہوا) وارث بنیں گے ( یعنی فردوس کی میراث حاصل کریں گے ( اور) اس میں ہمشہ ہمیشہ رہیں گے چاروں نہروں سے مراد پانی، دودھ شہد اور شراب کی وہ نہریں ہیں جن کا ذکر قرآن کریم کی ان آیات میں کیا گیا ہے۔ فیہا انہار من ماء غیر اسن وانہار من لبن لم یتغیر طعمہ وانہار من خمر لذۃ للشاربین وانہار من عسل مصفی۔ جنت میں بہت سی چیزیں تو ایسے پانی کی ہیں جس میں ذرا تغیر نہ ہوگا اور بہت سی نہریں دودھ کی ہیں جن کا ذائقہ ذرا بدلہ ہوا نہ ہوگا اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی اور بہت سی نہریں شہد کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی اور بہت سی نہریں شہد کی ہیں جو بالکل صاف و شفاف ہوگا۔ فردوس ہی کے اوپر عرش الہٰی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فردوس سب جنتوں سے افضل اور اوپر ہے کہ اس کے اوپر بس عرش الہٰی ہے۔ اسی لئے حضور ﷺ نے امت کو تلقین فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگو تاکہ سب سے اعلی اور سب سے بہتر جنت تمہیں حاصل ہو۔ روایت کے آخر میں مولف مشکوۃ کے ان الفاظ اور مجھے یہ حدیث نہ تو صحیین میں ملی ہے۔۔ الخ۔ کے ذریعہ دراصل صاحب مصابیح پر یہ اعتراض کیا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو فصل اول میں نقل کیا ہے جس میں صرف بخاری ومسلم کے متون میں ملی ہے اور نہ ان دونوں کتابوں کے مجموعہ کتاب حمیدی میں! لہذا اس حدیث کو فصل اول کے بجائے فصل دوم میں نقل کرنا چاہئے تھا۔ صاحب مصابیح پر مؤلف مشکوۃ کا اعتراض تو یہ ہے مگر بعض شارحین نے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری میں دو جگہ موجود ہے ایک تو کتاب الجہاد میں اور دوسری کان عرشہ علی الماء کے باب میں اور صحیح مسلم میں بھی فضل جہاد فی سبیل اللہ کے باب میں موجود ہے۔
Top