مشکوٰۃ المصابیح - کھانوں کے ابواب - حدیث نمبر 4091
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقيت إبراهيم ليلة أسري بي فقال : يا محمد أقرئ أمتك مني السلام وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة عذبة الماء وأنها قيعان وأن غراسها سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث حسن غريب إسنادا
سینگی کھنچوانے کا ذکر
اور حضرت کبشہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنے سر مبارک پر اور اپنے دونوں مونڈہوں کے درمیان بھری ہوئی سینگیاں کھنچواتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ان خونوں میں سے کچھ نکال دیا کرے اور پھر وہ کسی بیماری کا علاج نہ کرے تو اس کو کوئی نقصان و ضرر نہیں پہنچے گا۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)

تشریح
احتمال ہے آپ ﷺ کبھی تو سر مبارک پر سینگی کھنچواتے ہوں گے اور کبھی دونوں مونڈہوں کے درمیان۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ ایک ساتھ دونوں جگہ سینگی کھنچواتے ہوں۔ ان خونوں میں سے کچھ نکال دیا کرے۔ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خون سے مراد مذکورہ دونوں عضو کا خون ہے لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ مطلق فاسد خون مراد ہو، یعنی جسم کے جس حصہ میں بھی فاسد خون جمع ہوگیا ہو اس کو نکلوا دینا چاہئے۔
Top