مشکوٰۃ المصابیح - حوض اور شفاعت کا بیان - حدیث نمبر 5490
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص أن النبي صلى الله عليه و سلم تلا قول الله تعالى في إبراهيم : [ رب إنهن أضللن كثيرا من الناس فمن تبعني فإنه مني ] وقال عيسى : [ إن تعذبهم فإنهم عبادك ] فرفع يديه فقال اللهم أمتي أمتي . وبكى فقال الله تعالى : يا جبريل اذهب إلى محمد وربك أعلم فسله ما يبكيه ؟ . فأتاه جبريل فسأله فأخبره رسول الله صلى الله عليه و سلم بما قال فقال الله لجبريل اذهب إلى محمد فقل : إنا سنرضيك في أمتك ولا نسوؤك . رواه مسلم
حضور ﷺ کی شفاعت قبول کرنے کا وعدہ خداوندی
اور عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ روایت کرتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ نے ( اپنی مجلس میں لوگوں کے سامنے) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں (یہ بیان کرنے کے لئے کہ وہ قیامت کے دن اپنی امت کے متعلق بارگاہ رب ذوالجلال میں کیا عرض کریں گے) یہ آیت پڑھی، (رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّه مِنِّىْ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 14۔ ابراہیم 36) اور پوری آیت کا ترجمہ یوں ہے کہ میرے پروردگار! یہ بت بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے ہیں، پس ان لوگوں میں سے جنہوں نے میری اطاعت قبول کی ہے، یعنی تو حید، اخلاص اور توکل کو اختیار کیا وہ میرے اپنے اور میرے تابعدار ہیں اور جنہوں نے میری نافرمانی کی ہے تو، تو معاف کرنے والا رحیم ہے) پھر آپ ﷺ نے ( اسی سلسلہ میں) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تعلق سے یہ آیت پڑھی ( جس میں یہ بیان ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنی امت کے حق میں پروردگار سے کیا عرض کریں گے) (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ) 5۔ المائدہ 118) ( اور آیت کا بقیہ حصہ یہ ہے وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) پوری آیت کا ترجمہ یوں ہے اگر تو ان کو عذاب میں مبتلا کرے تو بہرحال وہ تیرے ہی بندے ہیں یعنی تو ان کا مطلق مالک ہے وہ تیرے حکم کے خلاف کر ہی کیا سکتے ہیں اور ان کو عذاب میں مبتلا کرنے سے تجھے کون روک سکتا ہے۔ اگر تو ان کو بخش دے تو بیشک تو غالب حکمت والا ہے۔ یعنی تجھ پر کوئی غالب نہیں ہے، تو جو چاہے حکم کرسکتا ہے، کوئی بھی تیرے حکم کو پس پشت ڈالنے کی طاقت نہیں رکھتا پھر یہ کہ تیری حکمت و دانائی میں بھی ذرہ برابر شبہ نہیں، تو ہر ایک کے بارے میں وہی حکم کرتا ہے جس کا وہ مستحق ومستوجب ہوتا ہے اور ہر چیز کو وہی جگہ دیتا ہے جہاں کا وہ سزاوار ہے) اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ پروردگار میری امت کو بخش دے، میری امت پر رحم فرما اور ( یہ دعا کرتے ہوئے) آپ ﷺ رونے لگے۔ ( فورا) اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور حالانکہ اے جبرائیل تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے ( اس کو کچھ مطلق دریافت کرنے کی ضرورت نہیں ہے) مگر محمد ﷺ کی دلجوئی اور پروردگار کی عنایت و توجہ کے اظہار کی خاطر) ان سے پوچھو کہ آپ ﷺ کیوں روتے ہیں ( یہ حکم سنتے ہی) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے رونے کا سبب پوچھا، آپ ﷺ نے آپنے الفاظ میں انہیں بتادیا ( کہ اپنی امت کے بارے میں خوف الٰہی نے مجھ پر رقت طاری کردی ہے) پھر (حضرت جبرائیل (علیہ السلام) بارگاہ کبریائی میں واپس گئے اور صورت حال عرض کی اور تب) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور کہو کہ ( جب وقت آئے گا تو) ہم یقینًا آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی امت کے بارے میں راضی وخوش کردینگے اور آپ ﷺ کو ہرگز رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے۔ ( مسلم)

تشریح
( یہ دعا کرتے ہوئے) آپ ﷺ رونے لگے۔ یعنی آپ ﷺ نے اپنی اپنی امت کے حق میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شفاعت کو یاد کیا اور اس کا ذکر کیا تو پھر فورا آپ ﷺ کو خود اپنی امت کا خیال آگیا اور اس خوف سے آپ ﷺ پر رقت طاری ہوگئی کہ نامعلوم میری امت کے لوگوں کا کیا حشر ہوگا کہیں ان کو تو عذاب الٰہی میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، چناچہ آپ ﷺ نے بارگاہ الٰہی میں اپنی امت کی بخشش و مغفرت کی دعا فرمائی۔ آپ ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں راضی وخوش کردیں گے۔ اور آپ ﷺ راضی وخوش کس صورت میں ہوں گے، اس کے متعلق روایتوں میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ میں اس وقت تک راضی وخوش نہیں ہونگا جب تک اللہ تعالیٰ میری امت کے ایک ایک فرد کو بخش نہیں دے گا۔ سبحان اللہ اس امت کے لئے اس سے بڑی سعادت کی بات اور کیا ہوسکتی ہے، ضرورت صرف یہ ہے کہ حقیقی معنی میں آپ ﷺ کا امتی بنا جائے آپ ﷺ کے ساتھ ایمان کے عقیدے کو ہر حالت میں درست رکھا جائے، مشکل جو ہے صرف یہی ہے اور کچھ نہیں۔ خاک اوپاش بادشاہی کن آن او پاش ہر چہ خواہی کن اس حدیث سے کئی اہم باتیں ظاہر ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ کو اپنی امت سے کس درجہ کا تعلق ہے اور آپ ﷺ اپنی امت پر کتنے زیادہ شفیق و مہربان ہیں، نیز آپ ﷺ اپنی امت کے لوگوں کی صلاح و فلاح کی طرف کس طرح ہر وقت متوجہ رہتے تھے، دوسری اور سب سے بڑی بات اس امت مرحومہ کے لئے بشارت عظمی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے وعدہ فرما لیا ہے کہ ہم آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی امت کے بارے میں راضی وخوش کردیں گے اور تیسری بات آنحضرت ﷺ کا عظیم المرتبیت ظاہر ہونا ہے۔
Top