مشکوٰۃ المصابیح - جن چیزوں سے محرم کو بچناچاہئے ان کا بیان - حدیث نمبر 2725
وعن يعلى بن أمية قال : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم بالجعرانة إذ جاء رجل أعرابي عليه جبة وهو متضمخ بالخلوق فقال : يا رسول الله إني أحرمت بالعمرة وهذه علي . فقال : أما الطيب الذي بك فاغسله ثلاث مرات وأما الجبة فانزعها ثم اصنع في عمرتك كما تصنع في حجك
وہ چیزیں جو محرم کو پہننا ممنوع ہیں
حضرت یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جعرانہ میں (کہ جو مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ایک مقام ہے اور جہاں سے آپ ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا) نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ اچانک ایک شخص جو دیہاتی تھا آیا اس نے کرتہ پہنا ہوا تھا، نیز وہ شخص خلوق میں رنگا بسا تھا (خلوق ایک خوشبو کا نام ہے جو زعفران وغیرہ سے تیار ہوتی تھی) اس شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے عمرہ کا احرام اس حالت میں باندھا تھا کہ یہ کرتہ میرے جسم پر تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے اوپر جو خوشبو لگی ہوئی ہے اسے تو تین مرتبہ دھو ڈالو اور کرتہ کو اتار دو اور پھر اپنے عمرہ کے احرام میں وہی کرو جو تم اپنے حج کے احرام میں کرتے ہو۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
زعفران کا استعمال چونکہ مردوں کے لئے حرام ہے اور خلوق زعفران ہی سے تیار ہوتی تھی اس لئے آپ ﷺ نے اس شخص کو یہ حکم دیا کہ وہ اسے دھو ڈالے نیز تین مرتبہ دھونے کا حکم صرف اس لئے دیا تاکہ وہ خوب اچھی طرح چھوٹ جائے ورنہ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خلوق کو بالکل صاف کردو خواہ وہ کسی طرح اور کتنی ہی مرتبہ میں صاف ہو۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں حج کے احرام کی حالت میں ممنوع ہیں وہی عمرہ کے احرام کی حالت میں بھی ممنوع ہیں اس لئے تم عمرہ کے احرام کی حالت میں ان تمام چیزوں سے پرہیز کرو جن سے حج کے احرام کی حالت میں پرہیز کیا جاتا ہے۔ مسئلہ احرام کی حالت میں بغیر خوشبو سرمہ لگانا جائز ہے بشرطیکہ اس سے زیب وزینت مقصود نہ ہو۔ اگر کوئی شخص زیب وزینت کے بغیر خوشبو کا بھی سرمہ لگائے تو مکروہ ہوگا۔ اس موقع پر ایک خاص بات یہ جان لینی چاہئے کہ جو چیزیں احرام کی حالت میں حرام ہوجاتی ہیں ان کا ارتکاب اگر قصداً ہوگا تو متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک اس کی وجہ سے مرتکب پر فدیہ لازم ہوگا۔ ہاں بھول چوک سے ارتکاب کرنے والے پر فدیہ واجب نہیں ہوگا جیسا کہ حضرت امام شافعی، ثوری، احمد اور اسحق رحمہم اللہ کا قول ہے البتہ امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کے نزدیک اس صورت میں بھی فدیہ واجب ہوگا۔
Top