مشکوٰۃ المصابیح - نفل روزہ کا بیان - حدیث نمبر 2063
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عبد الله ألم أخبر أنك تصوم النهار وتقوم الليل ؟ فقلت : بلى يا رسول الله . قال : فلا تفعل صم وأفطر وقم ونم فإن لجسدك عليك حقا وإن لعينك عليك حقا وإن لزوجك عليك حقا وإن لزورك عليك حقا . لا صام من صام الدهر . صوم ثلاثة أيام من كل شهر صوم الدهر كله . صم كل شهر ثلاثة أيام واقرأ القرآن في كل شهر . قلت : إني أطيق أكثر من ذلك . قال : صم أفضل الصوم صوم داود : صيام يوم وإفطار يوم . واقرأ في كل سبع ليال مرة ولا تزد على ذلك
اعمال میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ عبداللہ کیا مجھے یہ اطلاع نہیں ملی (یعنی مجھے یہ معلوم ہوا ہے) کہ تم (روزانہ) دن میں تو روزے رکھتے ہو اور (ہر رات میں) پوری شب اللہ کی عبادت اور ذکر و تلاوت میں مشغول رہتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو (بلکہ) روزہ بھی رکھو اور بغیر روزہ بھی رہو، رات میں عبادت الٰہی بھی کرو اور سویا بھی کرو کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے (لہٰذا اپنے بدن کو زیادہ مشقت اور ریاضت میں مبتلا نہ کرو تاکہ بیماری یا ہلاکت میں نہ پڑجاؤ) تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے (اس لئے رات میں سویا بھی کرو تاکہ آنکھیں آرام و سکون پائیں) تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے (اس لئے اس کے شب باشی اور صحبت و مباشرت کرو) اور تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے، (لہٰذا ان کے ساتھ کلام و گفتگو کرو، ان کی خاطر و مہمانداری کرو اور ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریک رہو) جس شخص نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے (گویا) روزہ نہیں رکھا (البتہ) ہر مہینہ میں تین دن کے روزے ہمیشہ کے روزہ کے برابر ہیں لہٰذا ہر مہینہ میں تین دن (یعنی ایام بیض کے یا مطلقاً کسی بھی تین دن کے) روزے رکھ لیا کرو اور اسی طرح ہر مہینہ میں قرآن پڑھا کرو (یعنی ایک مہینہ میں ایک قرآن ختم کرلیا کرو) میں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ کی ہمت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا (تو پھر) بہترین روزہ جو روزہ داؤد ہے رکھ لیا کرو (جس کا طریقہ یہ ہے کہ) ایک دن تو روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو اور سات راتوں میں ایک قرآن ختم کرو اور اس میں اضافہ نہ کرو (یعنی نفل روزے رکھنے اور قرآن شریف ختم کرنے کی مذکورہ بالا تعداد و مقدار میں زیادتی نہ کرو) (بخاری ومسلم)

تشریح
شریعت نے اعمال میں میانہ روی اور اعتدال اختیار کرنے پر بڑا زور دیا ہے چناچہ نفل عبادات اور اعمال میں نہ اتنی کمی و کوتاہی کرنی چاہئے جس سے روحانی بالیدگی اور ترقی میں اضمحلال اور درجات عالیہ کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوجائے اور نہ اتنی زیادتی کرنی چاہئے جس سے جسمانی قوت و طاقت بالکل ہی پژمردہ ہوجائے اور دنیاوی مباح امور میں تعطل رونما ہوجائے اس لئے آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ ؓ کو منع فرمایا کہ نہ تو اتنے زیادہ روزے رکھو اور نہ اتنی زیادہ شب بیداری کرو تاکہ اس کی وجہ سے دوسری ضروری اور فرض عبادتوں میں خلل واقع نہ ہو اور نہ دوسرے انسانی و معاشرتی حقوق پس پشت پڑجائیں ہر مہینہ میں تین روزے رکھنے سے ہمیشہ کے روزے کا ثواب اس لئے لکھا جاتا ہے کہ ہر نیکی کی دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں جیسا کہ کئی موقعوں پر بتایا جا چکا ہے لہٰذا اس حساب سے تین روزے باعتبار ثواب اور اجزاء کے تیس روزے کے برابر ہوئے اور مہینہ میں تین روزے رکھنے والا گویا پورے مہینہ روزہ سے رہا۔
Top