مشکوٰۃ المصابیح - احرام باندھنے اور لبیک کہنے کا بیان - حدیث نمبر 2588
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى على الجنازة قال : اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا . اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان . اللهم لا تحرمنا أجره ولا تفتنا بعده . رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه
احرام کے کپڑے
حضرت زید بن ثابت ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم ﷺ اپنے احرام کے لئے ننگے ہوئے اور غسل کیا۔ (ترمذی، دارمی)

تشریح
ننگے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے سلے ہوئے کپڑے اپنے بدن سے اتار دیئے اور تہمد باندھ کر چادر اوڑھ لی جو احرام کے کپڑے ہیں چناچہ احرام کی حالت میں سلا ہوا کپڑا مثلاً کرتا، پائجامہ، ٹوپی عبا، قبا اور موزہ وغیرہ پہننا منع ہے۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوا احرام کے لئے غسل کرنا مسنون و افضل ہے، اگر غسل نہ ہو سکے تو پھر وضو پر اکتفا بھی جائز ہے حیض و نفاس والی عورت اور نابالغ بچوں کے لئے بھی غسل مسنون ہے۔
Top