مشکوٰۃ المصابیح - آرزوئے موت اور موت کو یاد رکھنے کی فضیلت کا بیان - حدیث نمبر 1587
وعن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المؤمن يموت بعرق الجبين . رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه
ناگہانی موت
حضرت عبیداللہ بن خالد راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ناگہانی موت (اللہ کے) غضب کی پکڑ ہے۔ ( ابوداؤد) بیہقی نے شعب الایمان میں اور رزین نے اپنی کتاب میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ غضب کی پکڑ کافر کے لئے ہے۔ مگر مومن کے لئے رحمت ہے۔

تشریح
مطلب یہ ہے کہ ناگہانی موت غضب الٰہی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کیونکہ اچانک موت واقع ہوجانے کی صورت میں مرنے والے کو اتنی بھی مہلت نہیں ملتی کہ سفر آخرت کی تیاری کرے بایں طور کہ توبہ و استغفار کر کے اپنے گناہوں کی بخشش چاہے اور نیک و صالح اعمال کر کے بارگاہ رب العزت میں سرخروئی حاصل کرے لیکن علماء لکھتے ہیں کہ یہ یعنی ناگہانی موت کو غضب کی پکڑ فرمانا کافروں کے لئے ہے اور ان لوگوں کے لئے ہے جو نیک راستہ پر نہیں ہیں جیسا کہ حدیث کے آخری الفاظ سے کہ جسے بیہقی اور رزین نے نقل کیا ہے معلوم ہوتا ہے۔ گویا حاصل کلام یہ ہوا کہ ناگہانی موت اچھے و نیک لوگوں کے لئے اچھی چیز ہے اور برے و بدکار لوگوں کے لئے بری چیز ہے۔
Top