صحیح مسلم - - حدیث نمبر 3688
وعن عدي بن عميرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا أيها الناس من عمل منكم لنا على عمل فكتمنا منه مخيطا فما فوقه فهو غال يأتي به يوم القيامة . فقام رجل من الأنصار فقال : يا رسول الله اقبل عني عملك . قال : وما ذاك ؟ قال : سمعتك تقول : كذا وكذا قال : وأنا أقول ذلك من استعملناه على عمل فليأت بقليله وكثيره فما أوتي منه أخذه وما نهي عنه انتهى . رواه مسلم وأبو داود واللفظ له
قومی محاصل وبیت المال میں خیانت نہ کرو
اور حضرت عدی ابن عمیرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ایک دن مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے) فرمایا لوگو! تم میں سے جو شخص ہماری طرف سے کسی کام کا عامل بنایا جائے (یعنی جس کو ہم کسی خدمت مثلًا زکوٰۃ وغیرہ وصول کرنے پر مامور کریں) اور وہ اپنے اس کام کے حاصل (آمدنی) میں سے سوئی برابر یا اس سے زائد ہم سے چھپائے (یعنی وہ جو کچھ وصول تحصیل کرے اس میں سے ہماری اجازت اور ہمارے علم کے بغیر تھوڑا یا بہت لے لے ) تو وہ خیانت کرنے والا ہے اور وہ قیامت کے دن اس (خیانت کی ہوئی چیز) کو لے کر آئے گا۔ (یہ سن کر) ایک انصاری شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے (وصول تحصیل کا) جو کام میرے سپرد کیا ہے وہ مجھ سے واپس لے لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کیوں؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے جو آپ کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے (یعنی آپ ﷺ نے اس کام کے سلسلے میں جو وعید بیان فرمائی ہے اس کی وجہ سے میں بہت خوفزدہ ہوگیا ہوں، کیونکہ یہ کام لغزش سے خالی نہیں ہے، اگر میں کسی لغزش میں مبتلا ہوگیا تو قیامت کے دن کیا جواب دوں گا؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، میں پھر یہی کہتا ہوں کہ ہم جس شخص کو عامل مقرر کریں اس کو چاہئے کہ وہ جو کچھ وصول کریں، وہ تھوڑا ہو یا زیادہ سب ہمارے پاس لے کر آئے اور اس میں سے اس کو (اس کی اجرت تنخواہ کے طور پر) جس قدر دیا جائے وہ اس کو لے لے اور جو نہ دیا جائے اس سے باز رہے (اب اس واضح ہدایت و تنبیہ کے بعد جو شخص اس کام کو انجام دے سکے وہ اس کی ذمہ داری قبول کرے اور جو شخص ان شرائط کے ساتھ اس کی انجام دہی میں اپنے معذور سمجھے وہ اس کی ذمہ داری کو قبول نہ کرے۔ مسلم وابو داؤد۔ الفاظ ابوداؤد، کے ہیں۔
Top