Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (4407 - 4503)
Select Hadith
4407
4408
4409
4410
4411
4412
4413
4414
4415
4416
4417
4418
4419
4420
4421
4422
4423
4424
4425
4426
4427
4428
4429
4430
4431
4432
4433
4434
4435
4436
4437
4438
4439
4440
4441
4442
4443
4444
4445
4446
4447
4448
4449
4450
4451
4452
4453
4454
4455
4456
4457
4458
4459
4460
4461
4462
4463
4464
4465
4466
4467
4468
4469
4470
4471
4472
4473
4474
4475
4476
4477
4478
4479
4480
4481
4482
4483
4484
4485
4486
4487
4488
4489
4490
4491
4492
4493
4494
4495
4496
4497
4498
4499
4500
4501
4502
4503
مشکوٰۃ المصابیح - طب کا بیان - حدیث نمبر 5965
وعن علي رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : سيخرج قوم في آخر الزمان حداث الأسنان سفهاء الأحلام يقولون من خير قول البرية لا يجاوز إيمانهم حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية فأينما لقيتموهم فاقتلوهم فإن في قتلهم أجرا لمن قتلهم يوم القيامة
فرقہ خوارج کی نشاندہی
اور حضرت علی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب اس زمانہ کے آخر میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو نوجوان ہوں گے ہلکی عقل والے ہونگے لوگوں کی اچھی باتیں بیان کریں گے لیکن ان کا ایمان ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ایمان سے مراد نماز ہے یعنی ان کی نمازیں قبول نہیں ہوں گی اور وہ لوگ دین یعنی امام وقت اور علماء حق کی اطاعت سے اس طرح نکل بھاگیں جس طرح تیر شکار کے درمیان سے نکل جاتا ہے لہٰذا تم میں سے جس شخص کی ایسے لوگوں سے مڈبھیڑ ہوجائے وہ انہیں قتل کر دے کیونکہ ان کے قتل کرنے کا اس شخص کو قیامت کے دن انعام ملے گا جو انہیں قتل کرے گا۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
لوگوں کو اچھی باتیں بیان کریں گے اس سے مراد یہ ہے کہ مذکورہ لوگ وہ بہترین اقوال اور اچھی باتیں بیان کریں گے جو عام طور پر اللہ کے نیک بندوں کی زبانوں پر رہتی ہیں یعنی قرآن کریم کی آیات لیکن ملحوظ رہے کہ مشکوٰۃ کے نسخوں میں تو (من خیر قول البریۃ) ہے یعنی خیر کا تعلق قول سے ہے چناچہ یہاں اسی کے مطابق ترجمہ و مطلب بیان کیا گیا ہے جب کہ مصابیح میں (من قول خیر البریہ) ہے یعنی اس میں خیر کا تعلق البریہ سے ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ بہترین انسان کے اقوال بیان کریں گے اس صورت میں قرآن کریم کی آیات کی بجائے رسول کریم ﷺ کی احادیث مراد ہوں گی۔ لیکن علماء کہتے ہیں کہ جملہ کی زیادہ مناسب اور موزوں ترکیب وہی ہے جو یہاں مشکوٰۃ میں نقل کی گئی ہے کیونکہ احادیث میں خوارج کے بارے میں منقول ہے کہ وہ قرآن کریم کی آیات پڑھیں گے اور ان سے اپنے غلط عقائد ونظریات پر استدلال کریں گے اور ان آیات کی غلط سلط تاویل کریں گے۔ جس طرح تیر شکار کے درمیان سے نکل جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی شکار کے درمیان سے نکل جاتا ہے اور اس شکار میں جلدی پیوست ہو کر فورًا نکل جانے کی وجہ سے وہ تیر شکار کے خون وغیرہ سے آلودہ نہیں ہوتا اسی طرح وہ لوگ بھی امام وقت اور علماء حق کی اطاعت سے نکل جائیں گے! طیبی کہتے ہیں کہ اس تمثیل کی مراد ان لوگوں کا دین کے دائرہ میں داخل ہونے پھر دین کے دائرہ سے نکل جانے اور اس تیر کی مانند کہ جو شکار میں پیوست ہو کر نکل جائے اور آلودہ نہ ہو ان لوگوں پر دین کی کسی بات کے اثر نہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے نیز اس کا منشاء ان خوارج کی نشان دہی کرنا ہے جو امام وقت اور اسلامی حکومت کے اطاعت گزار نہیں ہوتے اور لوگوں پر ہتھیار اٹھاتے ہیں چناچہ ابتداء میں ان خوارج کا ظہور حضرت علی کے عہد خلافت میں ہوا جن میں سے اکثر کو حضرت علی نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ خوارج کے بارے میں علماء کا فیصلہ خطابی کہتے ہیں کہ علمائے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خوارج کی جماعت باوجود گمراہی کے مسلمانوں ہی کے فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے ان کے ہاں نکاح کرنا بھی جائز اور ان کا ذبیحہ کھانا بھی درست ہے نیز ان کی گواہی بھی معتبر ہے چناچہ منقول ہے کہ حضرت علی ؓ سے ان سے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ منافق ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ منافق تو اللہ تعالیٰ کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں اس لئے انہیں منافق بھی نہیں کہا جاسکتا پھر پوچھا گیا کہ تو آخر وہ کیا ہیں؟ حضرت علی نے فرمایا کہ وہ مسلمانوں میں سے ایک فرقہ کے لوگ ہیں فتنہ و گمراہی نے ان کو گھیر لیا ہے چناچہ وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں۔ جیسا کہ بتایا گیا خوارج مسلمانوں کے ایک فرقہ کا نام ہے جو گمراہی میں مبتلا ہے اس فرقہ کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ بندہ نہ صرف گناہ کبیرہ بلکہ صغیرہ گناہوں کے ارتکاب سے بھی کافر ہوجاتا ہے۔
Top