Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3344 - 3425)
Select Hadith
3344
3345
3346
3347
3348
3349
3350
3351
3352
3353
3354
3355
3356
3357
3358
3359
3360
3361
3362
3363
3364
3365
3366
3367
3368
3369
3370
3371
3372
3373
3374
3375
3376
3377
3378
3379
3380
3381
3382
3383
3384
3385
3386
3387
3388
3389
3390
3391
3392
3393
3394
3395
3396
3397
3398
3399
3400
3401
3402
3403
3404
3405
3406
3407
3408
3409
3410
3411
3412
3413
3414
3415
3416
3417
3418
3419
3420
3421
3422
3423
3424
3425
مشکوٰۃ المصابیح - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان - حدیث نمبر 5998
عن أنس وابن عمر أن عمر قال : وافقت ربي في ثلاث : قلت : يا رسول الله لو اتخذنا من مقام إبراهيم مصلى ؟ فنزلت [ واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى ] . وقلت : يا رسول الله يدخل على نسائك البر والفاجر فلو أمرتهن يحتجبن ؟ فنزلت آية الحجاب واجتمع نساء النبي صلى الله عليه و سلم في الغيرة فقلت [ عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن ] فنزلت كذلك وفي رواية لابن عمر قال : قال عمر : وافقت ربي في ثلاث : في مقام إبراهيم وفي الحجاب وفي أسارى بدر . متفق عليه
موافقات عمر
حضرت انس اور حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا تین باتوں میں میرے پروردگار کا حکم میری رائے کے مطابق نازل ہوا۔ پہلی بات تو یہ کہ میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ﷺ اگر مقام ابراہیم کو ہم نماز پڑھنے کی جگہ بنائیں تو بہتر ہو (یعنی طواف کعبہ کے بعد کی دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں اگر وہ مقام ابراہیم کے پاس پڑھی جائیں تو زیادہ بہتر رہے گا) پس یہ آیت نازل ہوئی ( وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى) 2۔ البقرۃ 125) اور بناؤ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ۔ اور (دوسری بات یہ کہ) میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کو پردہ میں رہنے کا حکم فرمادیں (تاکہ غیر محرم لوگوں کے سامنے ان کا آنا بند ہوجائے) تو بہتر ہو۔ پس (میرے اس عرض کرنے پر) پردہ کی آیت نازل ہوئی۔ اور (تیسری بات یہ کہ) جب نبی کریم ﷺ کی بیبیوں نے رشک و غیرت والے معاملہ پر اتفاق کرلیا تھا۔ تو میں نے (ان سب کو مخاطب کر کے) کہا تھا اگر آنحضرت ﷺ تمہیں طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار جلد تمہارے بدلے ان کو اچھی بیبیاں دے دے گا پس میرے انہی الفاظ و مفہوم میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور حضرت ابن عمر کی ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے بیان کیا حضرت عمر نے فرمایا تین باتوں میں میرے پروردگار کا حکم میری رائے کے مطابق نازل ہوا، ایک تو مقام ابراہیم (کو نماز ادا کرنے کی جگہ قرار دینے) کے بارے میں دوسرے (آنحضرت ﷺ کی بیبیوں کے) پردے کے بارے میں اور تیسرے بدر کے قیدیوں کے بارے میں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حافظ عسقلانی نے لکھا ہے کہ یہاں صرف تین باتوں کے ذکر سے یہ لازم نہیں آتا کہ موافقات عمر کی تعداد تین سے زائد نہ ہودر حقیت ان مواقع کی تعداد تین سے کہیں زیادہ ہے جن میں حضرت عمر کی رائے اور مشورہ کے مطابق حکم الہٰی نازل ہوا ان میں جو زیادہ مشہور ہیں وہ تو ایک بدر کے قیدیوں ہی کا معاملہ ہے، ایک منافقوں کی نماز جنازہ پڑھنے والا واقعہ بھی ہے اسی طرح بعض محققین نے تلاش و جستجو کے بعد جن موافقات عمر کو جمع کیا ہے ان کی تعداد پندرہ سے زائد ہوتی ہے (جیسا کہ علامہ سیوطی نے بیس موافقات عمر کا ذکر کیا ہے) مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدم مبارک کا نشان بطور معجزہ پڑگیا تھا اور جس پر کھڑے ہو کر آپ بیت اللہ کی چنائی کرتے تھے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑ کر بتایا کہ مقام ابراہیم ہے اس وقت حضرت عمر نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم اس مقام کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے اس بارے میں کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے۔ اور پھر اسی دن آفتاب غروب بھی نہیں ہوا تھا کہ مذکورہ آیت نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر طواف کے بعد جو دو رکعتیں پڑھنی واجب ہیں وہ مقام ابراہیم کے پاس (اس طرح) پڑھا کرو (کہ مقام ابراہیم بھی سامنے رہے اور بیت اللہ بھی) اس آیت میں امر کا صیغہ استحباب کے لئے ہے اور بعض حضرات نے وجوب کے لئے کہا ہے، یعنی طواف کے بعد دو رکعتیں پڑھنی تو واجب ہیں لیکن مستحب یہ ہے کہ یہ دونوں رکعتیں خاص مقام ابراہیم کے پیچھے متصلاً پڑھی جائیں۔ ہاں جس شخص کو خاص مقام ابراہیم کے پیچھے جگہ نہ ملے اور حرم میں کسی بھی جگہ یہ رکعتیں پڑھ لے تو اس حکم کی پوری تعمیل ہوجائے گی۔ امام شافعی کے مسلک میں ان دو رکعتوں کے وجوب کے بارے میں دو قول ہیں۔ پس پردہ کی آیت نازل ہوئی اور آیت یہ ہے۔ (فَسْ َ لُوْهُنَّ مِنْ وَّرَا ءِ حِجَابٍ ) 33۔ الاحزاب 53) اور جب تم ان ( ازواج النبی ﷺ سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگا کرو۔ واضح رہے کہ ازواج مطہرات پر جو یہ پردہ واجب ہوا تھا وہ اس ستر عورت کے علاوہ ہے جو اور تمام عورتوں پر واجب ہے یعنی اس آیت کے ذریعہ ان ازواج مطہرات کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ غیر محرموں کے سامنے بالکل نہ آئیں اگرچہ کپڑوں میں لپٹی اور چھپی ہوئی ہی کیوں نہ ہوں یہ حکم خاص طور پر صرف ازواج مطہرات کو دیا گیا تھا، جب کہ اور عورتوں کو اجازت ہے کہ اگر اپنے جسم کو خوب ڈھانک چھپا کر وہ باہر نکلنا چاہیں تو نکل سکتی ہیں۔ رشک و غیرت والے معاملہ پر اتفاق کرلیا تھا اس سے آنحضرت ﷺ کے شہد پینے سے متعلق مشہورواقعہ مراد ہے آنحضرت ﷺ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد کھڑے کھڑے اپنی ازواج کے پاس تشریف لاتے تھے۔ ایک مرتبہ اسی معمول کے مطابق آپ ﷺ ایک زوجہ مطہرہ حضرت زینب کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے کہیں سے آیا ہوا شہد آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جو آپ ﷺ کو بہت مرغوب تھا اور اسی وجہ سے حضرت زینب نے آپ ﷺ کے لئے رکھ چھوڑا تھا، شہد پینے میں آپ کو کچھ وقت لگا۔ اور اس سبب سے حضرت زینب کے یہاں آپ ﷺ معمول سے زیادہ ٹھہرے رہے۔ یہ بات حضرت عائشہ اور بعض دوسری مطہرات کے لئے رشک و غیرت کا باعث بن گئی، ام المؤمنین حضرت عائشہ نے ام المؤمنین حضرت حفصہ (بنت عمر) سے مشورہ کیا اور دونوں اس رائے پر متفق ہوگئیں کہ آنحضرت ﷺ ہم جس کے پاس بھی تشریف لائیں وہ یوں کہے کہ آپ ﷺ میں سے مغافیر کی بوآرہی ہے۔ اور پھر جب آنحضرت ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے تو ان میں سے ہر ایک نے یوں ہی کہا آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں نے تو مغافیر کو ہاتھ بھی نہیں لگایا، صرف شہد پیا تھا، پھر مغافیر کی بو کہاں سے آئی انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اس شہد کی مکھیاں مغافیر پر بیٹھ گئی ہوں، جس کے سبب اس شہد میں مغافیر کی بو شامل ہوگئی ہو۔ اس بات سے ان کا مقصد یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ شہد پینے کے لئے آئندہ حضرت زینب کے یہاں نہ ٹھہریں۔ مگر آنحضرت ﷺ نے ان کی بات کو صداقت پر محمول کیا اور احتیاط شہد پینا اپنے اوپر حرام کرلیا۔ پھر بعد میں سارا بھید کھلا کہ یہ تو سوکنا پے کا چکر تھا جس میں آنحضرت ﷺ کو مبتلا کیا گیا اور ایک بدنما صورت حال پیدا ہوئی۔ اسی موقعہ پر حضرت عمر نے ان ازواج مطہرات کو تنبیہ وتہدید کرتے ہوئے مذکورہ الفاظ کہے اور پھر جب قرآن میں اس واقعہ سے متعلق فرمان الہٰی نازل ہوا تو اس میں حضرت عمر کے الفاظ اور مفہوم کو جوں کا توں شامل کیا گیا۔ سورة تحریم میں ہے۔ (عَسٰى رَبُّه اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَه اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ ) 66۔ التحریم 5) اگر آنحضرت ﷺ تم عورتوں کو طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلے ان کو تم سے اچھی بیبیاں دیدے گا۔ بدر کے قیدیوں کے بارے میں یعنی غزوہ بدر میں فتح یابی کے بعد جنگی قیدیوں کے متعلق آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے مشورہ فرمایا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہو اور ان کا معاملہ کس طرح نمٹایا جائے تو حضرت ابوبکر نے رائے دی کہ فدیہ لے کر ان کو رہا کردیا جائے۔ لیکن حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ ان دشمنان اسلام کو قتل کردیا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر کی رائے کو پسند فرمایا اور ان قیدیوں کو ان کی حیثیت واستطاعت کے مطابق فدیئے لے کر رہا کردیا۔ لیکن جب قرآن کریم میں اس کے متعلق آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر کی رائے کے مطابق نکلی۔ اس کی تفصیل اگلی حدیث میں آرہی ہے۔
Top