لباس کا بیان
لباس اصل میں تو مصدر ہے، لیکن استعمال ملبوس کے معنی میں ہوتا ہے، جیسا کہ کتاب کا لفظ مصدر ہونے کے باوجود مکتوب کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے لباس کے ماضی اور مضارع کے صیغے باب علم یعلم سے آتے ہیں، ویسے اس کا مصدر لبس (لام کے پیش کے ساتھ) بھی آتا ہے! اور لبس جو لام کے زبر کے ساتھ آتا ہے اس کے معنی التباس و خلط کے ہیں جس کا باب ضرب یضرب ہے۔