مشکوٰۃ المصابیح - افلاس اور مہلت دینے کا بیان - حدیث نمبر 2952
وعن جابر قال : كان لي على النبي صلى الله عليه و سلم دين فقضاني وزادني . رواه أبو داود
قرض کی واپسی میں غیر مشرو ط زیادتی جائز ہے
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پر میرا کچھ قرض تھا چناچہ جب آپ ﷺ نے وہ قرض واپس کیا تو مجھے کچھ زیادہ دیا (ابوداؤد)

تشریح
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کا کوئی مطالبہ (مثلا قرض وغیرہ) ادا کرے اور اپنی طرف سے کچھ زیادہ بھی دیدے بشرطیکہ وہ زیادتی سرے سے مشروط نہ ہو تو یہ درست ہے۔ اس زیادتی کو سود نہیں کہیں گے۔ کیونکہ سود تو اس زیادتی کو کہتے ہیں کہ جو قرض خواہ قرض دیتے وقت مشروط کر دے مثلا ایک سو روپیہ ایک متعین مدت کے وعدے سے بطور قرض کسی کو دے اور یہ شرط عائد کر دے کہ اس قرض کی واپس کے وقت دس روپیہ مزید لوں گا یہ قطعًا حرام ہے۔
Top