Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (2158 - 2269)
Select Hadith
2158
2159
2160
2161
2162
2163
2164
2165
2166
2166
2167
2168
2169
2170
2171
2172
2173
2174
2175
2176
2177
2178
2179
2180
2181
2182
2183
2184
2185
2186
2187
2188
2189
2190
2191
2192
2193
2194
2195
2196
2197
2198
2199
2200
2201
2202
2203
2204
2205
2206
2207
2208
2209
2210
2211
2212
2213
2214
2215
2216
2217
2218
2219
2219
2220
2221
2222
2223
2224
2225
2226
2227
2228
2229
2230
2231
2232
2233
2234
2235
2236
2237
2238
2239
2240
2241
2242
2243
2244
2245
2246
2247
2248
2249
2250
2251
2252
2253
2254
2255
2256
2257
2258
2259
2260
2261
2262
2263
2264
2265
2266
2267
2268
2269
سنن الترمذی - - حدیث نمبر 2880
ایک شبہ اور غلط فہمی :
سود کے بارے میں بعض لوگوں نے حضرت فاروق اعظم کے اس ارشاد کو آڑ بنا لیا جو سود کی اس خاص قسم کے بارے میں تھا جس کا مروجہ سود کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں یعنی چھ چیزوں کا باہمی بیع وشراء اور لین دین ان لوگوں نے اس ارشاد کا یہ نتیجہ نکالا کہ ربا کی حقیقت ہی مبہم رہ گئی تھی۔ اس کے متعلق علماء اور فقہاء نے جو کچھ لکھا ہے وہ صرف ان کا اپنے اجتہاد تھا لیکن جیسا کہ ابھی اوپر بتایا گیا حضرت فاروق اعظم کو ربا کی صرف اس قسم کے بارے میں تردد پیش آیا جو قرآن کے الفاظ سے ثابت نہیں تھا بلکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشاد کے ذریعہ اس کی حرمت کو بیان فرمایا تھا اور وہ چھ چیزوں کی آپس میں خریدو فروخت کا معاملہ تھا جو سود آج کل رائج ہے اور جو ایام جاہلیت میں بھی عام تھا۔ اس سے حضرت عمر کے اس ارشاد کا دور کا تعلق بھی نہ تھا اور ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ زمانہ جاہلیت ہی سے اس کے معاملات رائج اور جاری تھے پھر اس ارشاد کہ ان چھ چیزوں کے سود کے بارے میں حضرت عمر کو جو اشکال پیش آیا وہ بھی اس بات میں نہیں تھا کہ انہیں ان چھ چیزوں کے لین دین میں سود کو حرام سمجھنے میں تردد تھا بلکہ اشکال صرف یہ تھا کہ یہ حکم شاید ان چھ چیزوں (یعنی سونا چاندی اور گیہوں وغیرہ) تک ہی محدود نہ ہو بلکہ اس کے حکم کا دائرہ ان چھ چیزوں کے علاوہ دیگر اشیاء تک بھی وسیع ہو اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ لوگ یہ خیال کر کے کہ آنحضرت ﷺ نے صرف چھ چیزوں کے بارے میں یہ حکم فرمایا ہے دیگر اشیاء کے لین دین میں وہی صورتیں اختیار کر کے سود میں مبتلا ہوجائیں جنہیں آپ ﷺ نے چھ چیزوں کے لئے واضح طور پر ربا کہا ہے اس تردد کے پیش نظر آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ سود کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کو بھی قطعًا چھوڑ دو جن میں سود کا شائبہ تک نہ پایا جائے لہذا یہ ستم ظریقی نہیں تو اور کیا ہے کہ حضرت عمر نے اپنے اشکال کا نتیجہ تو یہ ظاہر فرمایا کہ منصوص چیزوں میں بھی ایسے معاملات سے پرہیز کیا جائے جن میں سود کا شبہ بھی پایا جائے اور ان لوگوں نے حضرت عمر کے اس ارشاد کا تعلق اس سود کی اس مخصوص قسم سے منقطع کر کے عام سود وربا کے معاملات سے جوڑ دیا اور پھر اس پر اکتفاء نہ کیا بلکہ مزید ستم یہ کیا کہ محض اپنی نافہمی کی وجہ سے حضرت عمر کے ارشاد کی روشنی میں سرے سے سود کی حرمت ہی کو ایک مشتبہ مسئلہ قرار دیدیا۔
Top