Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 1
عن جعفر عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أبشروا إنما مثل أمتي مثل الغيث لا يدرى آخره خير أم أوله ؟ أو كحديقة أطعم منها فوج عاما لعل آخرها فوجا أن يكون أعرضها عرضا وأعمقها عمقا وأحسنها حسنا كيف تهلك أمة أنا أولها والمهدي وسطها والمسيح آخرها ولكن بين ذلك فيج أعوج ليسوا ولا أنا منهم رواه رزين
امت محمدی ﷺ کا حال
حضرت امام جعفر صادق اپنے والد (حضرت امام محمد باقر) سے اور وہ امام جعفر کے دادا ( یعنی اپنے والد حضرت امام زین العابدین علی بن حسین بن علی) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خوش ہوجاؤ اور خوش ہوجاؤ، بات یہ ہے کہ میری امت اجابت کے افراد کا حال ( حصول منفعت کے اعتبار سے) بارش کے حال کی مانند ہے جس کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا اخیر بہتر ہے یا اس کا اول بہتر ہے، یا میری امت کی مثال ایک باغ کی مانند ہے جس ( کے کچھ حصوں سے) ایک سال ایک جماعت نے کھایا یعنی نفع اٹھایا اور اس (کے کچھ حصوں سے) دوسرے سال ایک اور جماعت نے کھایا، ممکن ہے وہ جماعت جس نے آخر میں باغ سے کھایا ( پہلی جماعت کے مقابلہ میں) چوڑائی اور گہرائی میں زیادہ ہو اور خوبیوں میں بھی اس سے بہتر ہو، بھلا وہ امت کیونکر ہلاک ( یعنی نیست و نابود) ہو جس کا اول میں ہوں جس کے وسط میں مہدی ہوں گے اور جس کے آخر میں مسیح ہوں گے، ہاں ان زمانوں کے درمیان ایک کج رو ( یعنی گمراہ) جماعت پیدا ہوگی، اس جماعت کے لوگ میرے راستہ و طریقہ پر چلنے والے اور میرے متبعین میں سے نہیں ہوں گے اور نہ میں ان سے ہوں یعنی میں ان سے راضی اور ان کا حامی و مددگار نہیں بلکہ ان کی سرکشی اور ان کے فسق کے سبب ان سے اپنی نا راضگی اور بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔ (رزین)
تشریح
خوش ہو اور خوش ہو۔۔۔ یہ الفاظ آپ ﷺ نے دو بار یا تو تاکید کے لئے فرمائے یا اس تکرار میں یہ نقطہ ملحوظ تھا کہ ایک بشارت تو دین کے اعتبار سے ہے اور ایک بشارت آخرت کے اعتبار سے۔ چوڑائی اور گہرائی میں۔۔۔ یہاں چوڑائی اور گہرائی سے جماعت کی کثرت اور لوگوں کی بڑی تعداد کے معنی مراد ہیں، اس جملہ میں طول، (لمبائی) کا ذکر اس لئے نہیں ہے کہ عرض اور عمق طول کے بعد ہوتا ہے، جب عرض اور عمق کا ذکر آگیا تو گویا طول کا بھی ذکر ہوگیا۔
Top