Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (2688 - 2858)
Select Hadith
2688
2689
2690
2691
2692
2693
2694
2695
2696
2697
2698
2699
2700
2701
2702
2703
2704
2705
2706
2707
2708
2709
2710
2711
2712
2713
2714
2715
2716
2717
2718
2719
2720
2721
2722
2723
2724
2725
2726
2727
2728
2729
2730
2731
2732
2733
2734
2735
2736
2737
2738
2739
2740
2741
2742
2743
2744
2745
2746
2747
2748
2749
2750
2751
2752
2753
2754
2755
2756
2757
2758
2759
2760
2761
2762
2763
2764
2765
2766
2767
2768
2769
2770
2771
2772
2773
2774
2775
2776
2777
2778
2779
2780
2781
2782
2783
2784
2785
2786
2787
2788
2789
2790
2791
2792
2793
2794
2795
2796
2797
2798
2799
2800
2801
2802
2803
2804
2805
2806
2807
2808
2809
2810
2811
2812
2813
2814
2815
2816
2817
2818
2819
2820
2821
2822
2823
2824
2825
2826
2827
2828
2829
2830
2831
2832
2833
2834
2835
2836
2837
2838
2839
2840
2841
2842
2843
2844
2845
2846
2847
2848
2849
2850
2851
2851
2852
2853
2854
2855
2856
2857
2858
مشکوٰۃ المصابیح - اہل بدر میں سے ان صحابہ کے ناموں کا ذکر جو جامع بخاری میں مذکور ہیں - حدیث نمبر 2521
وعن ابن عمر قال : قلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقوم من مجلس حتى يدعو بهؤلاء الدعوات لأصحابه : اللهم اقسم لنا من خشيتك ما تحول به بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
ایک عمدہ دعا
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کسی مجلس سے اٹھتے ہوں اور ان کلمات کے ذریعے اپنے صحابہ ؓ کے لئے دعا نہ مانگتے ہوں۔ (کیونکہ مجلس اور دعا میں صحابہ بھی شامل ہوتے تھے۔ یا کہ ان کی تعلیم کے لئے یہ دعا مانگتے تے۔ (اللہم اقسم لنا من خشیتک ماتحول بہ بیننا وبین معاصیک ومن طاعتک ما تبلغنا بہ جنتک ومن الیقین ماتھون بہ علینا مصیبات الدنیا ومتعنا باسماعنا وابصارنا وقوتنا ما احییتنا واجعلہ الوارث منا واجعل ثارنا علی من ظلمنا وانصرنا علی من عادانا ولا تجعل مصیبتنا فی دیننا ولا تجعل الدنیا اکبر ہمنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علینا من لا یرحمنا)۔ اے اللہ! تو ہم میں اپنا اتنا خوف پیدا کر دے کہ تو اس کی وجہ سے ہمارے اور گناہوں کے درمیان حائل ہوجائے (یعنی اس خوف کی وجہ سے ہم گناہوں سے بچیں) اور ہمیں اپنی اتنی اطاعت نصیب کر کہ اس کی وجہ سے، ہمیں بہشت کے (عالی درجات) میں پہنچا دے ہمیں اتنا یقین عطا فرما کہ اس کی وجہ سے تو ہم پر دنیا کی مصیبتیں آسان کر دے، ہمیں ہمارے سماعتوں، ہماری بینائیوں اور ہماری قوتوں سے اس وقت تک بہرہ مند رکھ جب تک کہ تو ہمیں زندہ رکھے اور بہرہ مندی کو ہمارا ورثہ قرار دے یعنی ہمارے تمام اعضاء و حو اس کو آخر تک برقرار و سلامت رکھ ہمارے کینہ و انتقال میں اس شخص کو مبتلا کر جس نے ہم پر ظلم کیا (یعنی ہمیں اتنی طاقت و قوت دے کہ ہم اپنے ظالموں سے بدلہ لے سکیں، یا ہماری طرف سے تو ان سے بدلہ لے) ہمیں فتح عطا فرما اس شخص سے جو ہم سے دشمنی رکھے خواہ وہ ہمارا دینی دشمن ہو یا دنیاوی دشمن ہماری مصیبتوں کو ہمارے دین میں مؤثر نہ کر (یعنی ہمیں ایسی مصیبتوں میں مبتلا نہ کر جو دین کے نقصان کا باعث ہوں۔ دنیا کو ہمارے لئے فکر کا مرکز اور ہمارے مبلغ علم کو ہمارا مطمع نظر بنا۔ اور ہم پر ان لوگوں کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کریں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
ہمیں اتنا یقین عطا فرما کا مطلب یہ ہے کہ تو اپنی ذات وصفات پر اور سرکار دو عالم ﷺ کے ارشادات وتعلیم پر ہمیں اس درجہ کا یقین و اعتماد عطا فرما کہ دنیا کی سختیاں اور یہاں کے مصائب و آلام ہمارے لئے آسان ہوں۔ مثلاً جس شخص کو یہ یقین ہوگا کہ اللہ تعالیٰ رازق ہے ہر جاندار کی ضروریات زندگی پورا کرتا ہے تو اسے ہرگز کوئی فکر نہیں ہوگی اور وہ اس کی ذات پر بھروسہ و اعتماد کرے گا اسی طرح جسے اس یقین کی دولت حاصل ہوجائے گی کہ آخرت کی سختیاں اور وہاں کے مصائب زیادہ سخت ہیں۔ دنیا کی سختیاں بالکل ناپائیدار اور ختم ہوجانے والی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو اس کے لئے دنیا کی مصیبتیں آسان ہوجائیں گی وہ بڑی سے بڑی دنیاوی مصیبت و سختی کا کوئی احساس نہیں کرے گا لہٰذا اے اللہ! تو ہمیں یقین و اعتماد و توکل و بھروسہ کی اسی عظیم دولت سے بہرہ ور فرما۔ دنیا کو ہمارے لئے فکروں کو مرکز نہ بنا کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کی بہت زیادہ فکر و تدبیر میں نہ لگے رہیں۔ بلکہ آخرت کی فکر، وہیں کے اندیشہ کا زیادہ خیال رکھیں، دنیا کی صرف اتنی ہی فکر اور اپنے معاش کا صرف اتنا ہی خیال رکھیں جو ضروری ہے اور جس کے لئے نہ صرف ہمیں اجازت ہے بلکہ مستحب بھی ہے۔
Top