Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 6271
زبیر بن عوام
حضرت زبیر بن عوام عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، چوتھی پشت قصی پر پہنچ کر ان کا اور آنحضرت ﷺ کا سلسلہ نسب ایک ہوجاتا ہے، ان کی والدہ ماجدہ حضرت صفیہ عبد المطلب کی بیٹی اور آنحضرت ﷺ کی پھوپھی ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ایک صاحبزادی حضرت اسماء ان کی زوجیت میں تھیں، انہوں نے اور ان کی والدہ حضرت صفیہ نے ایک ساتھ حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر ١٦ سال اور ایک روایت کے مطابق ٢٥ سال تھی، جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے چچا نے ان کو سخت اذیتیں پہنچائیں، یہاں تک کہ وہ ان کو دھوئیں میں بند کر کے ستایا تھا اور کہتا تھا کہ جب تک تم اسلام کو ترک نہیں کرو گے اسی طرح تم پر ظلم ڈھاتا رہونگا، مگر ان کے پائے استقامت میں ذرا لغزش نہیں آئی اور ہر سختی ان کے قدم کو راہ اسلام پر اور زیادہ مضبوطی سے جماتی رہی، ان کی پہلی ہجرت حبشہ کو ہوئی تھی، انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر اور دوسرے غزوات میں شرکت کی غزوہ احد میں جب کہ دشمن نے چاروں طرف سے یلغار کر رکھی تھی اور اسلامی لشکر افراتفری کے عالم میں تھا، حضرت زبیر نہایت بہادری اور پامردی کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پاس ڈٹے رہے، منقول ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس شخص نے اللہ کی راہ میں تلوار سونتی حضرت زبیر ابن عوام ہیں۔ حضرت زبیر کا رنگ گورا، چہرہ پر جمال و روشن تھا، دراز قد تھے جسم پر گوشت ہلکا تھا، بال بہت تھے اور رخسار ہلکے تھے، حضرت زبیر ٣٦ ھ میں جنگ جمل کے دوران شہید ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر ٦٤ سال تھی پہلے جسد خاکی کو دار السباع میں دفن کیا گیا پھر بصرہ لایا گیا اور وہیں ان کو آخری آرام گاہ بنی منقول ہے کہ حضرت زبیر بن عوام ؓ نماز کی حالت میں تھے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لشکر کے ایک شخص ابن جرموز نے ان پر حملہ کیا اور شہید کر ڈالا، بعد میں ابن جرموز حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس آیا اور بولا کہ آپ کو خوش خبری ہو میں نے زبیر کو قتل کر ڈالا ہے۔ سیدنا علی کرم اللہ و جہہ نے جواب دیا اور تو بھی خوش خبری سن لے کہ دوزخ تیرا انتظار کر رہی ہے۔
Top