Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 6048
وعن ابن عمر قال : آخى رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أصحابه فجاء علي تدمع عيناه فقال : آخيت بين أصحابك ولم تؤاخ بيني وبين أحد . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنت أخي في الدنيا والآخرة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
کمال قرب وتعلق کا اظہار
اور حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کرایا، تو حضرت علی اس حال میں (آنحضرت ﷺ کے پاس) آئے کہ آنکھوں سے آنسوجاری تھے اور عرض کیا کہ آپ ﷺ نے اپنے اور صحابہ کے درمیان تو بھائی چارہ قائم فرما دیا لیکن کسی سے میرا بھائی چارہ قائم نہیں کیا؟ (یہ سن کر) رسول کریم ﷺ نے (ان سے) تم میرے بھائی ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ نے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پر سب سے پہلے جس چیز کی طرف خصوصی توجہ دی وہ باشندگان مدینہ یعنی انصار اور مکہ سے آئے ہوئے مہاجرین کے درمیان برادرانہ بنیادوں پر مخلصانہ ومستحکم تعلق قائم کرانا تھا، چناچہ مدینہ پہنچنے کے پانچویں ہی ماہ آپ ﷺ نے ایک دن تمام انصار اور مہاجرین کو جمع کر کے اخوت اسلامی کا آفاقی فلسفہ پیش کیا اور انفرادی سطح پر عموماً ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ حضرت علی ان چند صحابہ میں سے ایک تھے جن کا کسی کے ساتھ بھائی چارہ قائم نہیں ہوا تھا اس پر حضرت علی کو سخت ملال ہوا اور وہ سمجھے کہ شاید مجھے نظر انداز کردیا گیا ہے، لہٰذا وہ روتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے اور شکوہ کیا کہ آپ ﷺ نے دوسرے صحابہ جیسے ابوبکر اور خارجہ ابن انصاری کے درمیان حضرت عمر فاروق اور حضرت عتبان بن مالک انصاری کے درمیان حضرت عثمان بن عفان اور حضرت ثابت بن منذر انصاری کے درمیان اور حضرت سلمان اور حضرت ابودرداء انصاری وغیرہ وغیرہ کے درمیان تو بھائی چارہ قائم کرکے ان کو ایک دوسرے کا دینی بھائی بنادیا ہے لیکن کسی انصاری صحابی کے ساتھ میرا بھائی چارہ قائم نہیں فرمایا اس پر آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں تمہارا بھائی موجود ہوں، دنیاوی رشتہ و قرابت کے اعتبار سے بھی، تو پھر تمہیں کیا ضروت ہے کہ کسی کے ساتھ تمہارا بھائی چارہ قائم کراؤں۔
Top