Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 6014
وعن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من نبي إلا وله وزيران من أهل السماء ووزيران من أهل الأرض فأما وزيراي من أهل السماء فجبريل وميكائيل وأما وزيراي من أهل الأرض فأبو بكر وعمر . رواه الترمذي إن سلم من عنعنة الحسن البصري )
وزراء رسالت
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں۔ پس آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر تو جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر وعمر ؓ ہیں۔ (ترمذی)
تشریح
آسمان والوں سے مراد فرشتے ہیں، ان فرشتوں میں سے جو دو فرشتے نبی اور رسول کے وزیر مقرر ہوتے ہیں ان کا کام عالم ملکوت سے اس نبی اور رسول کی امداد واعانت کرنا ہوتا ہے۔ زمین والوں سے مراد اس نبی اور رسول کی امت کے لوگ اور اس کے رفقاء اور محبین ہیں، ان رفقاء ومحبین میں سے دو آدمی اس نبی اور رسول کے بہت قریب اور بہت زیادہ دانا دور اندیش اور با صلاحیت ہوتے ہیں ان کا وہی مقام و مرتبہ ہوتا ہے جو کسی بادشاہ کے وزیروں کا ان دونوں وزیروں کا کام اس عالم ناسوت میں اپنے نبی و رسول کی خدمت و نصرت کرنا ہوتا ہے اور جب کوئی مشورہ طلب مسئلہ پیش آتا ہے تو نبی و رسول ان سے مشورہ کرتا ہے۔ اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اور حضرت میکائیل (علیہ السلام) (بلکہ تمام فرشتوں) سے افضل و اعلی ہیں اسی طرح یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل واعلی ہیں جب کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تمام لوگوں میں سب سے افضل واعلی ہیں نیز ابوبکر وعمر ؓ کے الفاظ اس حقیقت کی دلیل ہیں کہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر ؓ سے افضل ہیں کیونکہ ان الفاظ میں حرف و اگرچہ مطلق جمع کے لئے ہے لیکن اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ صاحب حکمت و دانائی کا کلام ہے اور ممکن نہیں کہ ان دونوں ناموں کے ذکر میں مذکورہ ترتیب (کہ پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا نام آیا اور پھر حضرت عمر ؓ کا) حکمت و مصلحت سے خالی ہو اور حکمت و مصلحت اس کے علاوہ کیا ہوسکتی ہے کہ جب دو ناموں کا ایک ساتھ ذکر کیا جاتا ہے تو پہلے وہی نام آتا ہے جو دوسرے سے افضل واعلی ہوتا ہے۔
Top