Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 5635
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لما خلق الله آدم وذريته قالت : الملائكة : يا رب خلقتهم يأكلون ويشربون وينكحون ويركبون فاجعل لهم الدنيا ولنا الآخرة . قال الله تعالى : لا أجعل من خلقته بيدي ونفخت فيه من روحي كمن قلت له : كن فكان . رواه البيهقي في شعب الإيمان
انسان کی فضیلت :
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا! جب اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو پیدا فرمایا تو فرشتوں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ نے تو ایک ایسی مخلوق کو پیدا کیا ہے جو کھاتی ہے اور پیتی ہے شادی بیاہ کرتی ہے اور (طرح طرح کی سواریوں پر) سوار ہوتی ہے، تو ہماری درخواست ہے کہ دنیا ( کی تمام نعمتیں) اس مخلوق کو دے دیجئے اور آخرت (کی تمام نعمتیں) ہمیں مرحمت فرمادیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس مخلوق کو میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی، اس کو مخلوق کے برابر قرار نہیں دے سکتا جس کو میں نے کن کہا تو وہ پیدا ہوگئی۔ (اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
تشریح
فرشتوں کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جب یہ مخلوق روئے زمین پر آپ کی خلافت کے لئے پیدا کی گئی ہے اور اس کو دنیا کی وہ تمام نعمتیں اور لذتیں عطا کی گئی ہیں جن سے ہمیں محروم رکھا گیا ہے تو ان کو بس دنیا ہی کی سرفرازی تک محدود رکھا جائے، یا یہ کہ دنیا کی ملنے والی نعمتیں ان کے حق میں ہمیشہ باقی رکھی جائیں اور آخرت کی تمام نعمتوں کو ہمارے لئے مخصوص کردیا جائے کہ جس طرح ہمیں دنیا کی نعمتوں میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا اسی طرح انسان نامی اس مخلوق کو آخرت کی نعمتوں میں سے کوئی حصہ نہ ملے تاکہ ہم دونوں برابر ہوجائیں! گویا فرشتوں نے دونوں کو اللہ کی مخلوق ہونے کے اعتبار سے خود کو آدم (علیہ السلام) اور ابن آدم کے مرتبہ ومقام کے برابر جانا، لیکن حق تعالیٰ نے فرشتوں کے اس گمان کی تصحیح فرمائی اور واضح کیا کہ انسان کی تخلیق و پیدائش دوسری تمام مخلوقات جس میں فرشتے بھی شامل ہیں کی تخلیق و پیدائش سے یکسرمختلف نوعیت رکھتی ہے مثلا فرشتوں کی تخلیق و پیدائش تو لفظ کن کے ذریعہ عمل میں آئی کہ صرف کن (پیدا ہوجا) کہ دیا تو تم فرشتے عالم وجود میں آگے اس کے برخلاف انسان کی تخلیق و پیدائش ایک خاص نظام کے تحت ہوئی اور اس کا سلسلہ بتدریج جاری ہے کہ سب سے پہلے آدم (علیہ السلام) کو بغیر کسی واسطہ اور ذریعہ کے دست قدرت نے براہ رست تخلیق کیا ان میں روح پھونکی پھر ان ہی کے اندر سے ان کا جوڑا (ہوا کو) پیدا کیا اور ان دونوں سے توالد و تناسل کا سلسلہ جاری کیا جوان کے بعد ان کی اولاد در اولاد اس وقت تک چلتا رہے کا جب تک اس دنیا کے خاتمہ کا وقت نہیں آجاتا پھر یہ کہ فرشتوں کا خمیر مجرد ہے جب کہ انسان کا خمیر مرکب ہے اس کے اندر ہدایت قبول کرنے کی بھی صلاحیت ہے اور ضلالت کو اختیار کرنے کا مادہ بھی وہ پروردگار کی صفت جلال کا مظہر بننے کی بھی استعداد رکھتا ہے اور اس کی صفت جمال کا مظہر بھی بن سکتا ہے لہٰذا جو مخلوق اپنی تخلیق و پیدائش کے اعتبار سے یہ خصوصیت رکھتی ہے وہ اس مخلوق کے برابر کسے قرار دی جاسکتی ہے جو اس جیسی خصوصیت سے عاری ہو واضح ہو کہ شرف و کر امت اور قربت میں فرشتہ انسان کا ہمسر نہیں ہوسکتا خاص طور پر شرف کرامت کے اعتبار سے تو انسان فرشتہ سے بہت اونچا ہے اور اس کا مقام و مرتبہ بہت اعلیٰ ہے اور چونکہ فرشتوں کو معصوم پیدا کیا گیا ہے اس لئے ان کو عذاب سے تو دور رکھا گیا ہے لیکن ان کو نعمتوں سے بھی محروم رکھا گیا ہے ان کے برخلاف انسان کو چونکہ نیکی کا راستہ اختیار کرنے اور برائی کے راستے سے بچنے کا مکلف وذمہ دار بنا کر پیدا کیا گیا ہے اس لئے جو انسان اپنی اس ذمہ داری کو پوری طرح ادا کرتا ہے وہ دونوں جہاں کی نعمتوں کا مستحق ہوتا ہے اور جو انسان اس ذمہ داری سے اعراض کرتا ہے وہ دونوں جہاں میں عتاب و عذاب کا مستوجب ہوتا ہے آخر میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اور اس میں روح پھونکی میں اللہ کی طرف روح کی نسبت محض روح کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لئے ہے جیسے بیت اللہ میں اللہ کی طرف بیت کی نسبت ہے۔
Top