Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 3596
وعن أبي قتادة : أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن خليط التمر والبسر وعن خليط الزبيب والتمر وعن خليط الزهو والرطب . وقال : انتبذوا كل واحد على حدة . رواه مسلم
نبیذکے بارے میں ایک حکم
اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خشک کھجور اور کچی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے، خشک کھجور اور خشک کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے کہ کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے کہ (اگر نبیذ بنانا ہی ہو تو) ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ۔ (مسلم )
تشریح
آنحضرت ﷺ نے دو پھلوں کو ملا کر بھگونے (یعنی ان کا نبیذ بنانے) سے منع فرمایا اور الگ الگ کر کے بھگونے (اور اس کی نبیذ بنانے) کو جائز رکھا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ جب دو مختلف طرح کے پھل ایک ساتھ بھگوئے جائیں گے تو ایک پر پانی جلد اثر کرے گا۔ اور دوسرے پر دیر سے، نتیجہ یہ ہوگا جو پانی سے جلد تغیر قبول کرے گا اس میں نشہ پیدا ہوجائے گا اور اس کا اثر دوسرے تک پہنچے کا، اس طرح جو نبیذ تیار ہوگی اس میں ایک نشہ آور چیز مخلوط ہوجانے کا قوی امکان ہوگا جس کا امتیاز کرنا ممکن نہیں ہوگا لہٰذا جب اس نیبذ کو پیا جائے گا تو گویا ایک حرام چیز کو پینا لازم آئے گا۔ چناچہ حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد نے اسی کی بنیاد پر اس حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی نبیذ پینا جو دو پھلوں کو باہم بھگو کر بنائی گئی ہو، حرام ہے خواہ اس میں نشہ ہو یا نشہ نہ ہو لیکن جمہور علماء یہ فرماتے ہیں کہ ایسی نبیذ کا پینا اسی صورت میں حرام ہوگا جب کہ وہ نشہ آور ہو۔
Top