Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 5461
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ ذَبَحُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَوْمَ الذَّبْحِ کَبْشَیْنِ اَقْرَنَیْنِ اَمْلَحَیْنِ مَوْجُوْئَیْنِ فَلَمَّا وَجَّھَھُمَا قَالَ اِنِّی وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلَی مِلَّۃِ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہ، وِبِذَلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُّحَمَّدٍ وَاُمَّتِہٖ بِسْمِ اﷲِ وَاﷲُ اَکْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ اَبُوْدَاؤدَ ابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارِمِیُّ وَفِی رِوَایَۃٍ لِاَحْمَدَ وَاَبِیْ دَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیِّ ذَبَحَ بَیَدِہٖ وَقَالَ بِسْمِ اﷲِ وَاﷲُ اَکْبَرُ اَللّٰھُمَّ ھٰذَا عَنِّی وَعَمَّنْ لَّمْ یُضِحِّ مِنْ اُمَّتِیْ۔
قربانی کے وقت کی دعا
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذبح کے دن (یعنی عید قرباں کے دن) دو دنبے جو سینگ دار ابلق اور خصی تھے ذبح کرنے چاہے تو ان کو قبلہ رخ کیا اور یہ پڑھا۔ یعنی میں اپنا منہ اس ذات کی طرف متوجہ کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میں دین ابراہیم پر ہوں جو توحید کو ماننے والے تھے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں بلاشبہ میری نماز، میری تمام عبادتیں، میری زندگی اور میری موت (سب کچھ) اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں اے اللہ! یہ قربانی تیری عطاء سے ہے اور خالص تیری ہی رضا کے لئے ہے تو اس کو محمد ﷺ اور اس کی امت کی جانب سے قبول فرما ساتھ نام اللہ کے اور اللہ بہت بڑا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ذبح کیا۔ (احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ، دارمی) نیز مسند احمد سنن ابوداؤد اور جامع ترمذی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (دونوں دنبے) اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ہیں کہا بسم اللہ واللہ اکبر، اے اللہ! یہ قربانی میری جانب سے ہے اور میرے امت کے ہر اس فرد کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔
تشریح
خصی سے مراد وہ ہے جس کے بیضے کوٹ کر اس کی شہوت ختم کردی جاتی ہے اس کی قربانی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ایسا خصی فربہ ہوتا ہے اور اس کا گوشت لذیذ ہوتا ہے۔ وما انا من المشرکین (اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں) اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نبوت ملنے سے پہلے کس شریعت کے مطابق عبادت کیا کرتے تھے؟ چناچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نبوت ملنے سے پہلے آپ ﷺ کی عبادت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق ہوتی تھی، بعض علماء کا قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق اور بعض علماء کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق آپ عبادت کیا کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں صحیح قول یہ ہے کہ آپ ﷺ کسی بھی شریعت کے مطابق عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی فہم اور اپنے وجدان کے موافق آپ ﷺ اپنی عبادت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ اور اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ البتہ یہ بات بالکل اجماعی طور پر محقق اور ثابت ہے کہ آپ ﷺ زندگی کے کسی بھی دور میں بت برستی کی نجاست میں ملوث نہیں ہوئے۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ ﷺ کی عبادت کس نوع اور کس طریقہ کی تھی؟ تو اس کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ وہ غیر معلوم ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ ﷺ اس وقت کس طرح عبادت کرتے تھے؟ عن محمد وامتہ میں مشارکت یا تو ثواب پر محمول ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے ذبح کے وقت یہ الفاظ فرما کر اپنی قربانی کے ثواب میں اپنی امت کو بھی شریک فرما لیا۔ یا اسے حقیقت پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے مگر اس صورت میں کہا جائے گا یہ رسول اللہ ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔ اس سلسلہ میں واضح ترین بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ایک دنبہ تو اپنی طرف سے قربان کیا اور دوسرے دنبہ کی قربانی امت کی طرف سے کی۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اگر قربانی کرنے والا ذبح کرنے پر قادر ہو تو اس کے لئے اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح کرنا مستحب ہے اگرچہ عورت ہی کیوں نہ ہو۔
Top