مشکوٰۃ المصابیح - حضرت علی بن ابی طالب کے مناقب کا بیان - حدیث نمبر 6069
وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بسد الأبواب إلا باب علي . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
مسجد میں علی کا دروازہ
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ( مسجد نبوی کے اندر) حضرت علی کے دروازہ کے علاوہ اور سب دروازوں کو بند کرا دیا تھا، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

تشریح
بعض صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد نبوی کے اندر تھے اس احتیاط کے پیش نظر کہ کوئی حائضہ عورت یا کوئی جنبی مرد ان دروازوں کے ذریعہ اپنے گھروں میں آنے جانے کے لئے مسجد کے اندر نہ آئے۔ آپ ﷺ نے ان سب صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھروں کے ان دروازوں کو جو مسجد کے اندر واقع ہیں بند کردیں، ہاں حضرت علی کو آپ ﷺ نے اس حکم سے مستثنیٰ رکھا اور ان کا دروازہ مسجد کے اندر کھلارہنے دیا۔ اس طرح آنحضرت ﷺ کے حکم کے تحت ان کو یہ خصوصی اجازت حاصل رہی کہ وہ جنابت یعنی ناپاکی کی حالت میں مسجد کے اندر سے گزر سکتے ہیں۔ رہی اس حدیث کی بات جو مناقب ابوبکر کے باب میں پیچھے نقل ہوئی ہے اور جس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر کے دریچہ کے علاوہ اور صحابہ کے گھروں کے ان دریچوں کو بند کردینے کا حکم دیا دو مسجد نبوی میں کھلے ہوئے تھے تو اس حدیث اور اس حدیث کے مابین کوئی تضاد اور منافات نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابوبکر سے متعلق اس بات کی وضاحت ہے کہ آپ ﷺ نے وہ حکم اپنے زمانہ مرض الموت میں دیا تھا جب کہ حضرت علی ؓ سے متعلق اس حدیث میں ایسی کوئی وضاحت نہیں ہے، اس لئے یہی کہا جائے گا کہ یہ حکم آپ ﷺ نے کبھی پہلے دیا تھا اور یہی بات کہ حضرت ابوبکر کی فضیلت وخصوصیت کو ظاہر کرنے والا حکم زمانہ مرض الموت کا ہے۔ علماء کے اس قول کو مضبوط بناتی ہے کہ اس حکم کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کا اصل مقصد حضرت ابوبکر کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا تھا، علاوہ ازیں حضرت ابوبکر سے تعلق رکھنے والی حدیث زیادہ صحیح اور زیادہ مشہور ہے کیونکہ اس کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے جب کہ حضرت علی ؓ سے تعلق رکھنے والی اس حدیث کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے، خواہ متن اسناد کے اعتبار اس کو انہوں نے غریب قرار دیا ہو یا معنی و مفہوم کے اعتبار سے۔ ملاعلی قاری نے اس حدیث کے تحت جو بحث کی ہے اس کو ترمذی کا اس حدیث کو غریب کہنا محل نظر معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے حضرت زید بن ارقم کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا درحقیقت مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ علی کے دروازہ کے علاوہ اور سب دروازوں کو بند کرادوں۔ ریاض کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس میں احمد نے حضرت زید بن ارقم سے یوں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ کے دروازے مسجد کو ان کی گزر گاہ بنائے ہوئے تھے، چناچہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ علی کے سوا اور تمام دروازے بند کردئیے جائیں۔ زید نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ کا یہ حکم سن کر چند لوگوں نے کچھ کلام کیا تو آنحضرت ﷺ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور حمد وثناء کے بعد فرمایا حقیقت یہ ہے کہ مجھ کو (اللہ کی طرف سے) حکم ہوا ہے کہ علی کے دروازہ کے علاوہ اور سب دروازوں کو بند کرادوں، اب تم میں سے کچھ لوگوں نے اس بارے میں کلام کیا ہے تو میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نہ میں نے اس کو بند کرنے کا حکم اپنی طرف سے دیا ہے اور نہ کسی دروازے کو کھلا رکھنے کا استثناء اپنی طرف سے کیا ہے مجھ کو جو حکم جس طرح دیا گیا ہے اسی طرح میں نے نافذ کردیا ہے، نیز ملا علی قاری نے یہ لکھا ہے کہ اوپر کی حدیث ابن عباس کی علاوہ حضرت جابر سے بھی منقول ہے۔ تاہم ملاعلی قاری نے وضاحت کردی ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے صحیح وہی حدیث ہے جو ابوسعید ؓ سے بخاری ومسلم نے نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ابوبکر کے دروازہ یا دریچہ کے علاوہ اور کوئی دروازہ یا دریچہ مسجد نبوی میں کھلا نہ چھوڑا جائے! اور حضرت علی ؓ سے تعلق رکھنے والی حدیث صحیح بھی ہو تو ان دونوں حدیثوں کو الگ الگ حالات اور مصالح پر محمول کیا جائے گا تاکہ ان دونوں کے درمیان تضاد اور منافات معلوم نہ ہو۔
Top