Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 4568
وعن عبد الله بن مسعود قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم إذنك علي أن ترفع الحجاب وأن تسمع سوادي حتى أنهاك . ( متفق عليه )
خاص اجازت
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میری طرف سے تمہیں یہ اجازت ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ اور میری باتیں سنو تاآنکہ میں تمہیں منع نہ کروں۔ (مسلم )
تشریح
نبی اکرم ﷺ کے آستانہ اقدس کے دروازے پر جو پردے پڑے ہوئے تھے وہ بوریے کے تھے۔ حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو نبی ﷺ کے گھر کے اندر آنے کی مخصوص اجازت حاصل تھی وہ دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت حاصل کرنے کے پابند نہیں تھے، چناچہ آپ نے ان سے فرما دیا کہ میرے پاس تمہارے آنے کی اجازت کی علامت بس یہی ہے کہ تم پردہ اٹھا کر دیکھو اگر میں سامنے موجود ہوں یا تمہیں یہ معلوم ہو کہ میں ہوں تو اندر چلے آؤ خواہ میں مخصوص لوگوں سے خفیہ بات ہی کیوں نہ کر رہا ہوں تمہیں اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہاں البتہ اگر کسی وقت میں تمہارا اند آنا مناسب نہیں سمجھوں گا اس وقت تمہیں اندر آنے سے منع کر دوں گا اس سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مرتبہ کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں نگاہ نبوت میں کس قدر محبوبیت حاصل تھی اور ان پر نبی اکرم ﷺ کی کتنی زیادہ رعایت تھی آپ نے ان کو اپنا اتنا مقرب قرار دیا کہ گویا وہ گھر ہی کے ایک فرد ہوگئے تھے اور جب چاہتے گھر میں چلے آتے۔ لیکن واضح رہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ مخصوص اجازت اس صورت سے متعلق تھی جب کہ حجرہ مبارکہ میں عورتوں کے آنے کا وقت نہیں رہتا تھا یا گھر میں عورتیں موجود نہیں ہوتی تھیں، خاص طور سے پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد تو یہ قید ضرور عائد ہوئی ہوگی۔
Top