Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 3036
عمری کیا ہے
ابتداء باب کے حاشیہ میں عمری کے معنی بیان کئے جا چکے ہیں چناچہ اس موقع پر بھی جان لیجیے کہ عمری کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا کوئی شخص کسی سے یہ کہے کہ میں نے اپنا یہ مکان تمہیں تمہاری زندگی تک کے لئے دیا یہ جائز ہے اس صورت میں جب تک وہ شخص جس کو مکان دیا گیا ہے زندہ ہے اس سے وہ مکان واپس نہیں لیا جاسکتا۔ لیکن اس کے مرنے کے بعد وہ مکان واپس لیا جاسکتا ہے یا نہیں اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ عمری کی تین صورتیں ہوتی ہیں۔ اول یہ کہ کوئی شخص مثلا اپنا مکان کسی کو دے اور یہ کہے کہ میں نے اپنا یہ مکان تمہیں دیدیا جب تک تم زندہ رہو گے یہ تمہاری ملکیت میں رہے گا تمہارے مرنے کے بعد تمہارے وارثوں اور اولاد کا ہوجائے گا اس صورت کے بارے میں تمام علماء کا بالاتفاق یہ مسلک ہے کہ یہ ہبہ ہے اس صورت میں مکان مالک کی ملکیت سے نکل جاتا ہے اور جس شخص کو دیا گیا ہے اس کی ملکیت میں آجاتا ہے اس شخص کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء اس مکان کے مالک ہوجاتے ہیں اگر ورثاء نہ ہوں تو بیت المال میں داخل ہوجاتا ہے۔ عمری کی دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ دینے والا بلا کسی قید وشرط کے یعنی مطلقا یہ کہے کہ یہ مکان تمہاری زندگی تک تمہارا ہے اس صورت کے بارے میں علماء کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ اس کا بھی حکم وہی ہے جو پہلی صورت کا حکم ہے چناچہ حنفیہ کا مسلک بھی یہی ہے اور بعد اس کے وارثوں کا حق نہیں ہوتا بلکہ اصل مالک یعنی جس نے اس شخص کو دیا تھا کی ملکیت میں واپس آجاتا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ دینے والا یوں کہے کہ یہ مکان تمہاری زندگی تک تمہارا ہے تمہارے مرنے کے بعد میری اور میرے وارثوں کی ملکیت میں آجائے گا اس صورت کے بارے میں بھی زیادہ صحیح یہی بات ہے کہ اس کا حکم بھی وہی ہے جو پہلی صورت ہے حنفیہ کے نزدیک یہ شرط کہ تمہارے مرنے کے بعد میری اور میرے وارثوں کی ملکیت میں آجائے گا فاسد ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ کسی فاسد شرط کی وجہ سے فاسد نہیں ہوتا۔ حضرت امام شافعی کا بھی زیادہ صحیح قول یہی ہے لیکن حضرت امام احمد یہ فرماتے ہیں کہ عمری کی یہ صورت ایک فاسد شرط کی وجہ سے فاسد ہے۔ عمری کے بارے میں حضرت امام مالک کا یہ قول ہے کہ اس کی تمام صورتوں میں بنیادی مقصد دی جانیوالی چیز کی منفعت کا مالک کرنا ہوتا ہے۔
Top