مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 961
وَعَنْہُ قَالَ لِی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَا بُنَیَّ اِیَّاکَ وَالْاِلْتَفَاتَ فِی الصَّلٰوۃِ فَاِنَّ الْاِلْتِفَاتَ فِی الصَّلٰوۃِ ھَلَکَۃٌ فَاِنْ کَانَ لا بُدَّ فَفِی التَّطَوُّعِ لَا فِی الْفَرِیْضَۃِ۔ (رواہ الترمذی)
نماز میں ادھر ادھر دیکھنے پر وعید
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اے میرے بیٹے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے بچو کیونکہ نماز میں (گردن پھیر کر) ادھر ادھر دیکھنا (آخرت میں) ہلاکت کا سبب ہے اور اگر دیکھنا ضروری ہو تو نفلوں میں (تو خیر مضائقہ نہیں) مگر فرضوں میں (ہرگز درست) نہیں۔ (جامع ترمذی)

تشریح
نماز میں گردن ادھر ادھر پھیر کر دیکھنا آخرت میں ہلاکت کا سبب اس لئے ہے کہ ایسا کرنے والا دراصل شیطان کی اطاعت کرنا ہے کیونکہ شیطان کا بھی یہی مقصد ہوتا ہے کہ بندہ نماز میں پوری توجہ اور لگن کے ساتھ نہ رہے بلکہ ان کی نظر اور اس کا خیال ادھر ادھر بھٹکتا رہے۔ حدیث کے الفاظ فان کان لا بد کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارا احساس و شعور اور تمہاری سعادت اس بات سے متاثر نہیں ہوتی کہ تمہاری نماز میں نقصان ہوجائے یا نماز کا کمال ختم ہوجائے تو کم از کم فرض نماز میں تو ایسا نہ کرو کہ ادھر ادھر دیکھ کر اس نماز کے کمال کو ختم کرو ہاں نفل نماز میں تو کسی نہ کسی حد تک انگیز بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ نفل نماز فرض نماز کے مقابلے میں کچھ سہل ہے کہ فرض نماز کے لئے بہت زیادہ اور کامل اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں ذرا سا بھی نقصان اخروی حیثیت سے تباہی و ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے اور عقلمندی اور سعادت کا تقاضا تو یہ ہونا چاہئے کہ ادھر ادھر دیکھ کر نفل نماز میں کوئی نقصان نہ پیدا کرنا چاہیے حقیقت میں نفل نماز کا نقصان فرض نماز کے نقصان کا باعث ہے اس لئے کہ نوافل در حقیق فرائض کی تکمیل کرنے والے ہیں لہٰذا حدیث کے اس جملے سے یہ مطلب اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ نفل نماز میں ادھر ادھر دیکھنا مکروہ نہیں بلکہ اس کا مقصد اس بات کی طرف رغبت دلاتا ہے کہ فرض نماز اپنی عظمت و اہمیت کے اعتبار سے اس بات کو برداشت نہیں کرسکتی کہ اس قسم کے افعال کا ارتکاب کر کے نماز میں نقصان پیدا کیا جائے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث اس بات کو واضح کر رہی ہے کہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کی کراہت فرض نماز کی بہ نسبت نفل نماز میں کم ہے۔
Top