مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 958
وَعَنْ کَعْبِ ابْنِ عُجْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا تَوَضَّأُ اَحَدُکُمْ فَاَحْسَنَ وُضُوءَ ہ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا اِلٰی الْمَسْجِدِ فَلَا یُشَبِّکَنَّ بَیْنَ اَصَابِعِہٖ فَاِنَّہ، فِی الصَّلٰوۃِ۔ (رواہ احمد بن حنبل الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی)
نماز کے راستے میں انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ کرنے کا حکم
اور حضرت کعب ابن عجرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اچھی وضو کرے پھر نماز کا ارادہ کر کے مسجد کی طرف چلے (تو اسے چاہیے کہ راستے میں انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ کرے کیونکہ وہ اس وقت سے گویا نماز میں ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، ابوداؤد، سنن نسائی، دارمی)

تشریح
حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی وضو کرے تو اسے چاہئے کہ وہ وضو کی تمام شرائط و آداب کو ملحوظ رکھے اور حضور قلب کے ساتھ وضو کرے تاکہ وضو پورے کمال اور حسن کے ساتھ ادا ہو۔ چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ جس قدر توجہ اور حضور قلب وضو میں حاصل ہوگا اسی قدر نماز میں خشوع و خضوع اور توجہ پیدا ہوگی۔ تشبیک کیا ہے؟ حدیث کے دوسرے جزو کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی وضو کے بعد نماز کے ارادے سے مسجد کی طرف چلے تو راستے میں انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ کرے یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر کھیلتا ہوا نہ چلے کیونکہ جب وہ نماز کی نیت سے گھر سے نکلا ہے تو گویا وہ نماز ہی میں ہے اور خشوع و خضوع کے منافی ہونے کی وجہ سے تشبیک چونکہ نماز میں ممنوع ہے اس لئے نماز کے راستے میں بھی یہ ممنوع ہے اسی پر قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جو چیز نماز میں ممنوع ہے وہ نماز کے لئے مسجد آتے ہوئے راستے میں بھی ممنوع ہوگی۔ اس حدیث سے اس بات پر تنبیہ مقصود ہے کہ بندے کو چاہئے کہ وہ نماز کے راستے میں حضور اور خشوع و ادب اور وقار کے ساتھ چلے محمد بن اسماعیل بخاری (رح) نے اپنی کتاب صحیح البخاری میں ایک باب مسجد میں تشبیک کے موضوع پر قائم کیا ہے جس کے تحت انہوں نے دو حدیثیں نقل کی ہیں دونوں حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مسجد میں انگلیوں کے درمیان تشبیک جائز ہے لہٰذا علماء کرام نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے ثابت شدہ ممانعت کا تعلق اس صورت میں ہے کہ جب کوئی آدمی انگلیوں کے درمیان تشبیک محض کھیل اور تفریح طبع کی خاطر کرے اور کوئی آدمی بطریق تمثیل کرے تو جائز ہے یا پھر صحیح البخاری کی روایت کردہ احادیث کی یہ توجیہ بھی کی جاسکتی ہے کہ ان احادیث کا تعلق اس وقت سے ہے جب کہ انگلیوں کے درمیان تشبیک کی ممانعت کا حکم نہیں ہوا تھا۔ وا اللہ اعلم۔
Top