Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 2324
وعن جندب أن النبي صلى الله عليه وسلم كان في بعض المشاهد وقد دميت أصبعه فقال هل أنت إلا أصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت متفق عليه
آنحضرت ﷺ کا ایک شعر
اور حضرت جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی نے ایک جنگ (غزوہ احد) میں شریک تھے کہ معرکہ آرائی کے دوران آپ کی انگلی زخمی ہوگئی اور اس کی وجہ سے خون آلودہ ہوگئی آپ نے بطور استعارہ یا درحقیقت انگلی کو تسلی دیتے ہوئے اس کو مخاطب کر کے یہ شعر فرمایا (بخاری)۔ یعنی تو کیا ہے ایک انگلی ہے خون آلود ہوئی اور پھر تجھ کو یہ جو کچھ ہوا ہے اللہ کی راہ میں ہوا ہے۔
تشریح
زخمی اور خون آلود انگلی کو مخاطب کر کے آپ نے جو اشعار ارشاد فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ تو جسم کا کوئی بڑا حصہ نہیں ہے بدن کا کوئی سب سے اہم عضو نہیں ہے ایک معمولی سی انگلی ہے پھر تجھے جو تکلیف ہوئی وہ سخت اور شدید ترین نہیں ہے کہ نہ تو کٹ کر گر پڑی ہے اور نہ ہلاکت میں مبتلا ہوئی ہے تجھ کو صرف زخم پہنچا ہے اور خون آلود ہوگئی ہے اگر تو نے اتنی سی تکلیف اٹھائی ہے اس کی وجہ سے بےتابی اور بےقراری کی کوئی وجہ نہیں ہے جب کہ یہ تھوڑی سی تکلیف بھی ضائع جانے والی نہیں ہے بلکہ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضاء میں چونکہ تو نے تکلیف اٹھائی ہے اس لئے تجھ کو اس پر اجر ملے گا اس اعتبار سے یہ تکلیف بھی تیرے لئے خوشی و راحت کا ذریعہ ہونا چاہیے اس ارشاد کے ذریعہ گویا آپ نے امت کے لوگوں کو تلقین فرمائی کہ اگر کسی مسلمان کو اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف و ضرر پہنچے تو اس پر صبر کرنا چاہیے بلکہ حقیقت میں اس کو شکر کا مقام سمجھنا چاہیے کہ اللہ کا عطا کیا ہوا جسم و بدن اسی کی راہ میں قربان کرنے اور تکلیف اٹھانے کی توفیق نصیب ہوئی جو ایک بہت بڑی سعادت ہے۔ اس حدیث کے سلسلے میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا مذکورہ ارشاد ایک شعر ہے جب کہ آپ کی ذات اقدس شعر و شاعری کے وصف سے پاک ہے اور آپ کی ذات سے کسی شعر کا صادر ہونا غیر ممکن ہے کیونکہ اللہ نے آپ کے بارے میں فرمایا وما علمنہ الشعر، یعنی اور ہم نے آپ کو شعر کہنا سکھایا ہی نہیں، اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ شعر میں شاعر کا قصد و ارادہ بھی شرط ہے یعنی یہ ضرور ہے کہ جس شخص نے کوئی کلام موزوں کیا ہے اس نے موزونیت کا قصد و ارادہ بھی کیا ہو جیسا کہ باب کے شروع میں بیان کیا جا چکا ہے کہ جب نبی کا ارشاد گرامی بلاشبہ موزوں کلام ہے لیکن اس کی موزونیت آپ کے کسی قصد و ارادہ کے تحت نہیں ہوئی، بلکہ قصد و ارادہ اور بےساختہ آپ کی زبان مبارک سے صادر ہونے والا یہ کلام شعر میں ڈھل گیا۔ بعض حضرات نے یہ جواب دیا کہ آنحضرت ﷺ کا مذکورہ کلام اصل رجز کی قسم ہے اور جز پر شعر کا اطلاق نہیں ہوتا، علاوہ ازیں یحییٰ نے یہ کہا ہے کہ جو شخص بطریق ندرت یعنی اتفاقا کبھی کوئی شعر کہہ دے تو اس کو شاعر نہیں کہا جاتا اور اللہ کے ارشاد وماعلمنہ الشعر سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ شاعر نہیں ہیں۔
Top