Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (702 - 1228)
Select Hadith
702
703
704
705
706
707
708
709
710
711
712
713
714
715
716
717
718
719
720
721
722
723
724
725
726
727
728
729
730
731
732
733
734
735
736
737
738
739
740
741
742
743
744
745
746
747
748
749
750
751
752
753
754
755
756
757
758
759
760
761
762
763
764
765
766
767
768
769
770
771
772
773
774
775
776
777
778
779
780
781
782
783
784
785
786
787
788
789
790
791
792
793
794
795
796
797
798
799
800
801
802
803
804
805
806
807
808
809
810
811
812
813
814
815
816
817
818
819
820
821
822
823
824
825
826
827
828
829
830
831
832
833
834
835
836
837
838
839
840
841
842
843
844
845
846
847
848
849
850
851
852
853
854
855
856
857
858
859
860
861
862
863
864
865
866
867
868
869
870
871
872
873
874
875
876
877
878
879
880
881
882
883
884
885
886
887
888
889
890
891
892
893
894
895
896
897
898
899
900
901
902
903
904
905
906
907
908
909
910
911
912
913
914
915
916
917
918
919
920
921
922
923
924
925
926
927
928
929
930
931
932
933
934
935
936
937
938
939
940
941
942
943
944
945
946
947
948
949
950
951
952
953
954
955
956
957
958
959
960
961
962
963
964
965
966
967
968
969
970
971
972
973
974
975
976
977
978
979
980
981
982
983
984
985
986
987
988
989
990
991
992
993
994
995
996
997
998
999
1000
1001
1002
1003
1004
1005
1006
1007
1008
1009
1010
1011
1012
1013
1014
1015
1016
1017
1018
1019
1020
1021
1022
1023
1024
1025
1026
1027
1028
1029
1030
1031
1032
1033
1034
1035
1036
1037
1038
1039
1040
1041
1042
1043
1044
1045
1046
1047
1048
1049
1050
1051
1052
1053
1054
1055
1056
1057
1058
1059
1060
1061
1062
1063
1064
1065
1066
1067
1068
1069
1070
1071
1072
1073
1074
1075
1076
1077
1078
1079
1080
1081
1082
1083
1084
1085
1086
1087
1088
1089
1090
1091
1092
1093
1094
1095
1096
1097
1098
1099
1100
1101
1102
1103
1104
1105
1106
1107
1108
1109
1110
1111
1112
1113
1114
1115
1116
1117
1118
1119
1120
1121
1122
1123
1124
1125
1126
1127
1128
1129
1130
1131
1132
1133
1134
1135
1136
1137
1138
1139
1140
1141
1142
1143
1144
1145
1146
1147
1148
1149
1150
1151
1152
1153
1154
1155
1156
1157
1158
1159
1160
1161
1162
1163
1164
1165
1166
1167
1168
1169
1170
1171
1172
1173
1174
1175
1176
1177
1178
1179
1180
1181
1182
1183
1184
1185
1186
1187
1188
1189
1190
1191
1192
1193
1194
1195
1196
1197
1198
1199
1200
1201
1202
1203
1204
1205
1206
1207
1208
1209
1210
1211
1212
1213
1214
1215
1216
1217
1218
1219
1220
1221
1222
1223
1224
1225
1226
1227
1228
مشکوٰۃ المصابیح - قربانى کا بیان - حدیث نمبر 3908
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم إذ طلع علينا رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه أثر السفر ولا يعرفه منا أحد حتى جلس إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأسند ركبتيه إلى ركبتيه ووضع كفيه على فخذية وقال : يا محمد أخبرني عن الإسلام قال : الإسلام : أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا . قال : صدقت . فعجبنا له يسأله ويصدقه . قال : فأخبرني عن الإيمان . قال : أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر وتؤمن بالقدر خيره وشره . قال صدقت . قال : فأخبرني عن الإحسان . قال : أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك . قال : فأخبرني عن الساعة . قال : ما المسؤول عنها بأعلم من السائل . قال : فأخبرني عن أماراتها . قال : أن تلد الأمة ربتها وأن ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون في البنيان . قال : ثم انطلق فلبثت مليا ثم قال لي : يا عمر أتدري من السائل ؟ قلت : الله ورسوله أعلم . قال : فإنه جبريل أتاكم يعلمكم دينكم . رواه مسلم ورواه أبو هريرة مع اختلاف وفيه : وإذا رأيت الحفاة العراة الصم البكم ملوك الأرض في خمس لا يعلمهن إلا الله . ثم قرأ : ( إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ) الآية
ایمان کا بیان
حضرت عمر بن الخطاب بیان کرتے ہیں کہ ایک دن (ہم صحابہ) رسول اللہ ﷺ کی مجلس مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی ہمارے درمیان آیا جس کا لباس نہایت صاف ستھرے اور سفید کپڑوں پر مشتمل تھا اور جس کے بال نہایت سیاہ (چمکدار) تھے، اس آدمی پر نہ تو سفر کی کوئی علامت تھی (کہ اس کو کہیں سے سفر کر کے آیا ہوا کوئی اجنبی آدمی سمجھا جاتا) اور نہ ہم میں سے کوئی اس کو پہچانتا تھا (جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ کوئی مقامی آدمی ہو یا کسی کا مہمان بھی نہیں تھا) بہر حال وہ آدمی رسول اللہ ﷺ کے اتنے قریب آکر بیٹھا کہ آپ ﷺ کے گھٹنوں سے اپنے گھٹنے ملا لئے اور پھر اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں رانوں پر رکھ لئے (جیسے ایک سعادت مند شاگرد اپنے جلیل القدر استاد کے سامنے باادب بیٹھتا ہے اور استاد کی باتیں سننے کے لئے ہمہ تن متوجہ ہوجاتا ہے) اس کے بعد اس نے عرض کیا اے محمد ﷺ! مجھ کو اسلام کی حققیت سے آگاہ فرمائیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اس حقیقت کا اعتراف کرو اور گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور پھر تم پابندی سے نماز پڑھو (اگر صاحب نصاب ہو تو) زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور زاد راہ میسر ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ اس آدمی نے یہ سن کر کہا آپ ﷺ نے سچ فرمایا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اس (تضاد) پر ہمیں تعجب ہوا کہ یہ آدمی (ایک لاعلم آدمی کی طرح پہلے تو) آپ ﷺ سے دریافت کرتا ہے اور پھر آپ ﷺ کے جواب کی تصدیق بھی کرتا ہے (جیسے اس کو ان باتوں کا پہلے سے علم ہو) پھر وہ آدمی بولا اے محمد ﷺ! اب ایمان کی حقیقت بیان فرمائیے، آپ ﷺ نے فرمایا (ایمان یہ ہے کہ) تم اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو، اس کے رسولوں کو اور قیامت کے دن کو دل سے مانو اور اس بات پر یقین رکھو کہ برا بھلا جو کچھ پیش آتا ہے وہ نوشتہ تقدیر کے مطابق ہے۔ اس آدمی نے (یہ سن کر) کہا آپ ﷺ نے سچ فرمایا۔ پھر بولا اچھا اب مجھے یہ بتائیے کہ احسان کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسا ممکن نہ ہو (یعنی اتنا حضور قلب میسر نہ ہو سکے) تو پھر (یہ دھیان میں رکھو کہ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ پھر اس آدمی نے عرض کیا قیامت کے بارے میں مجھے بتائیے (کہ کب آئے گی) آپ ﷺ نے فرمایا اس بارے میں جواب دینے والا، سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا (یعنی قیامت کے متعلق کہ کب آئے گی، میرا علم تم سے زیادہ نہیں جتنا تم جانتے ہو اتنا ہی مجھ کو معلوم ہے) اس کے بعد اس آدمی نے کہا اچھا اس (قیامت) کی کچھ نشانیاں ہی مجھے بتادیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا لونڈی اپنے آقا کو مالک کو جنے گی اور برہنہ پا، برہنہ جسم مفلس و فقیر اور بکریاں چرانے والوں کو تم عالی شان مکانات و عمارت میں فخر و غرور کی زندگی بسر کرتے دیکھو گے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا اور میں نے (اس کے بارے میں آپ سے فورًا دریافت نہیں کیا بلکہ) کچھ دیر توقف کیا، پھر آپ ﷺ نے خود ہی مجھ سے پوچھا عمر! جانتے ہو سوالات کرنے والا آدمی کون تھا؟ میں نے عرض کیا اللہ اور رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا یہ جبرائیل تھے جو (اس طریقہ سے) تم لوگوں کو تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ (صحیح مسلم) اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ نے چند الفاظ کے اختلاف و فرق کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کی روایت کے آخری الفاظ یوں ہیں۔ (رسول اللہ ﷺ نے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ) جب تم برہنہ پابرہنہ جسم اور بہرے گونگے لوگوں کو زمین پر حکمرانی کرتے دیکھو (تو سمجھ لینا کہ قیامت قریب ہے) اور قیامت تو ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں رکھتا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَه عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ) 31۔ لقمان 34) آخر تک پڑھی (جس کا ترجمہ یہ ہے اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور بارش کا کہ کب برسائے گا اور وہی (حاملہ) کے پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے ( کہ لڑکا ہے یا لڑکی) اور کوئی آدمی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کسی آدمی کو نہیں معلوم کہ کس زمین پر اسے موت آئے گی۔ بیشک اللہ ہی جاننے والا اور خبردار ہے)۔ (صحیح البخاری ومسلم)
تشریح
یہ حدیث حدیث جبرائیل کہلاتی ہے کیونکہ یہ حدیث اس سوال و جواب (انٹرویو) پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بڑی خوبی کے ساتھ اسلام و ایمان کی حقیقت اور دین کی اساسی باتوں کا تعارفی خاکہ پیغمبر ﷺ کی زبان مبارک سے دنیا والوں کے سامنے پیش کرایا ہے۔ حدیث میں سب سے پہلے ایمان اور اسلام کی حقیقت بیان ہوئی ہے جس سے ایمان اور اسلام کے درمیان یہ فرق بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ ایمان کا تعلق تو باطن یعنی تصدیق و اعتقاد سے ہے اور اسلام کا تعلق ظاہر یعنی اعمال اور جسمانی اطاعت و فرمانبرداری سے ہے۔ اللہ کو ماننے کا مطلب اس بات پر یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ اس کی ذات اور اس کی صفات برحق ہیں، عبادت و پرستش کی سزاوار صرف اسی کی ذات ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی اس کا ہمسر و شریک نہیں۔ فرشتوں کو ماننے کا مطلب اس بات میں یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق فرشتوں کے نام سے موجود ہے یہ فرشتے لطیف اور نورانی اجسام ہیں۔ ان کا کام ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کی تعمیل کرنا ہے۔ کتابوں کو ماننے کا مطلب اس بات پر یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں اور وقتاً فوقتاً اپنے پیغمبروں پر جو کتابیں نازل فرمائی ہیں اور ان میں چار کتابیں نازل فرمائی ہیں اور جن کی تعداد ایک سو چار ہے۔ وہ سب کلام الٰہی اور احکام و فرامین الٰہی کا مجموعہ ہیں اور ان میں چار کتابیں تو رات، انجیل، زبور اور قرآن مجید سب سے اعلیٰ و افضل ہیں اور پھر ان چاروں میں سب سے اعلیٰ و افضل قرآن مجید ہے۔ رسولوں کا ماننے کا مطلب اس بات پر یقین اور اعتقاد رکھنا ہے کہ اول الانبیاء حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفے ﷺ تک تمام نبی اور رسول اللہ تعالیٰ کے سب سے سچے، سب سے پیارے اور سب سے افضل بندے ہیں جن کو اس نے اپنے احکام و ہدایات دے کر مختلف زمانوں، مختلف قوموں میں مبعوث کیا اور انہوں نے ان خدائی احکام و ہدایات کے تحت دنیا والوں کو ابدی صداقت و نجات کا راستہ دکھانے اور نیکی و بھلائی پھیلانے کا اپنا فریضہ مکمل طور پر ادا کیا اور یہ کہ ان تمام نبیوں اور رسولوں کے سردار پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد مصطفے ﷺ ہیں جو کسی خاص زمانہ، کسی خاص علاقہ اور کسی خاص قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوئے، بلکہ اللہ کا ابدی دین اسلام لے کر تمام دنیا اور پوری کائنات کی طرف مبعوث ہوئے اور تا قیامت ان ہی کی نبوت اور انہی کی شریعت جاری و نافذ رہے گی۔ یوم آخرت یعنی قیامت کے دن سے مراد وہ عرصہ ہے جو مرنے کے بعد سے قیامت قائم ہونے اور پھر جنت میں داخل ہونے تک پر مشتمل ہے۔ قیامت کے دن کو ماننے کا مطلب اس بات پر یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ شریعت اور شارع نے مابعد الموت اور آخرت کے بارے میں جو کچھ بتایا ہے یعنی موت کے بعد پیش آنے والے احوال مثلاً قبر اور برزخ کے احوال، نفخ صور، قیامت، حشر و نشر، حساب و کتاب اور پھر جزاء و سزا کا فیصلہ اور جنت و دوزخ یہ سب اٹل حقائق ہیں اور جن کا وقوع پذیر ہونا اور پیش آنا لازمی امر ہے۔ اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں۔ تقدیر پر یقین رکھنے کا مطلب اس حقیقت کو دل سے تسلیم کرنا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب نوشتہ تقدیر کے مطابق اپنے اپنے وقت پر وقوع پذیر ہوتا ہے، آج جو بھی علم واضح ہوتا ہے خواہ وہ نیکی کا ہو یا بدی کا، خالق کائنات کے علم اور تقدیر میں وہ ازل سے موجود ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بندہ مجبور و مضطر ہے۔ کاتب تقدیر نے انسان کو مختار بنایا ہے۔ یعنی اس کے سامنے نیکی و بدی کے دونوں راستے کھول کر اس کو اختیار دے دیا ہے کہ چاہے وہ نیکی کے راستہ پر چلے، چاہے بدی کے راستہ پر اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ نیکی کے راستہ پر چلو گے تو جزاء و انعام سے نوازے جاؤ گے جو اللہ کا فضل و کرم ہوگا اور اگر بدی کے راستہ پر چلو گے تو سزا اور عذاب کے حقدار بنو گے اور دوزخ میں ڈالے جاؤ گے جو عدل الٰہی کے عین مطابق ہوگا۔ احسان سے مراد وہ جو ہر (اخلاص) ہے جس سے ایمان و اسلام کی ظاہری صورت یعنی عبادت الٰہی کا صحیح معیار اور حسن قائم ہوتا ہے اور عبادت کا یہی صحیح معیار اور حسن درحقیقت بندے کو معبود کا کامل تقرب اور عبدیت کا حقیقی مقام عطا کرتا ہے۔ بندہ اپنی عبادتوں کو اس جو ہر سے کس طرح آراستہ و مزین کرسکتا ہے؟ اس کا طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ جب تم اپنے پروردگار کی عبادت کرو تو اس طرح کرو جس طرح کوئی نوکر یا غلام اپنے آقا اور مالک کی خدمت اس کو اپنے سامنے دیکھ کر کرتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے کہ اگر شفیق آقا نظر کے سامنے ہو اور غلام اس کو دیکھ رہا ہو تو اس کے فرض کی انجام دہی کی کیفیت ہی دوسری ہوتی ہے اس وقت غلام نہ صرف یہ کہ پوری طرح چاق و چوبند مؤدب اور پابند ہوتا ہے بلکہ کام کرنے کا اس کا انداز بھی پوری طرح والہانہ اور مخلصانہ ہوتا ہے اس کے برخلاف اگر آقا نظر کے سامنے نہ ہو تو غلام اگرچہ موفوضہ خدمت انجام ضرور دیتا ہے مگر اس صورت میں نہ تو وہ اتنا چاق وچوبند، مؤدب اور پابند ہوتا ہے اور نہ اس کے کام کرنے کے انداز میں اس قدر والہانہ اور مخلصانہ کیفیت موجود ہوتی ہے۔ پس اسی نکتہ کے پیش نظر اگر بندہ عبادت کے وقت ایسی کیفیت و حالات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ تو خشوع و خضوع اور تضرع کی تمام تر کیفیات خودبخود اس کی عبادت میں پیدا ہوجائیں گی اور اس طرح اس کی عبادت حقیقی عبادت کا درجہ پائے گی اور اس عبادت کا بنیادی مقصد بھی حاصل ہوگا۔ عبادت کے اس مرتبہ کو حقیقی احسان کہا گیا ہے جس کو ارباب تصوف مشاہدہ اور استغراق سے تعبیر کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عبادت کا یہ سب سے اونچا مرتبہ و مقام ہے جہاں تک رسائی اتنی آسان نہیں ہے اس لئے نسبتاً آسان طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ جب تم عبادت کرو تو یہ دھیان میں رکھو کہ جس ذات کی عبادت تم کر رہے ہو اس کے سامنے تم کھڑے ہو اور اگرچہ تم اس کو نہیں دیکھ سکتے مگر وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔ تمہاری ایک ایک بات پر اس کی نظر ہے اور تمہاری حرکات و سکنات میں سے کچھ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، اس یقین و اعتقاد سے بھی تمہاری عبادت میں خشوع و خضوع اور تضرع بڑی حد تک پیدا ہوجائے گا اور عبادت کا حق ادا ہوگا۔ حدیث میں عبادت کی اسی کیفیت کو احسان سے تعبیر کیا گیا ہے جو حقیقی احسان یعنی مشاہدہ و استغراق کا ثانوی درجہ ہے۔ حدیث میں ان چاروں فرائض کا بھی ذکر ہے جو ہر مسلمان و مومن پر اس تفصیل کے ساتھ عائد ہوتے ہیں کہ نماز اور روزہ تو وہ دو بدنی فرض عبادتیں ہیں جن کا تعلق ہر عاقل و بالغ مسلمان سے ہے جو بھی آدمی ایمان اور اسلام سے متصف ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اس پر فرض ہے کہ وہ پانچوں وقت کی نمازیں پابندی کے ساتھ ادا کرے اور جب رمضان آئے تو اس مہینے کے پورے روزے رکھے۔ باقی دو فرض عبادتیں یعنی زکوٰۃ اور حج وہ مالی عبادتیں ہیں جن کا تعلق صرف اس مومن و مسلمان سے ہے جو ان کے بقدر مالی استطاعت و حیثیت رکھتا ہو۔ مثلاً زکوٰۃ اس مسلمان پر فرض ہوگی جو صاحب نصاب ہو۔ اور حج اس مسلمان پر فرض ہوگا جو صاحب نصاب ہی نہیں بلکہ اپنی تمام ضروریات زندگی سے فراغت کے بعد اتنا سرمایہ رکھتا ہو کہ وہ بغیر کسی تنگی و پریشانی کے آمدورفت اور سفر کے دوسرے تمام اخراجات برداشت کرسکتا ہو۔ علاوہ ازیں سفر حج کی پوری مدت کے لئے اہل و عیال اور لواحقین کے تمام ضروری اخراجات کے بقدر رقم یا سامان و اسباب ان کو دے کر جاسکتا ہو۔ زادراہ اور فرضیت حج کی اس طرح کی دوسری شرائط پوری ہوجائیں تو باقی دشواریاں جیسے سفر کا طویل اور پر صعوبت ہونا، درمیان میں سمندر یا دریا کا حائل ہونا وغیرہ، حج کی فرضیت کو ساقط نہیں کرسکتیں۔ قیامت کی کچھ اہم نشانیاں بتائی گئی ہیں کہ جب یہ آثار ظاہر ہونے لگیں اور یہ علامتیں دیکھ لی جائیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس عالم کے خاتمہ کا وقت قریب آگیا ہے اور یہ دنیا اپنے وجود کے آخری دور سے گزر رہی ہے۔ پہلی علامت یا نشانی تو یہ بتائی گئی ہے کہ لونڈی اپنے آقا یا مالک کو جنے گی اس کا ایک مطلب تو غلامی کے زمانہ اور رواج کے سیاق میں لیا جاسکتا ہے کہ لوگ کثرت سے باندیاں رکھیں گے اور ان باندیوں سے اولاد بھی بہت جنوائیں گے، پھر انہی اولاد میں سے جو لوگ بڑے ہو کر مال و جائیداد اور حکومت و طاقت کے مالک بنیں گے وہ لا علمی میں اپنی انہی ماؤں کو جنہوں نے ان کو جنم دیا ہوگا، باندیوں کے طور پر خریدیں گے۔ اور اپنی خدمت میں رکھیں گے۔ اس جملے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب معاشرے میں جنسی بےراہ روی عام ہوجائے، مرد و زن تمام اخلاقی اور انسانی پابندیوں کو توڑ کر بےمحابہ ناجائز تعلقات پیدا کریں اور اس کے نتیجہ میں ایسے ناجائز بچے کثرت سے پیدا ہونے لگیں جن کو نہ اپنے باپ کی خبر ہو اور نہ اپنی ماں کو جانتے ہوں اور پھر وہی بچے بڑے ہو کر لا علمی میں اپنی ماؤں کو ملازمہ اور نو کر انی بنائیں جنہوں نے ان کو جنا تھا تو سمجھو کہ قیامت قریب آگئی ہے۔ دوسری علامت برہنہ پا، برہنہ جسم، مفلس و فقیر اور بکریاں چرانے والوں کا ایوان حکومت اور عالیشان مکانات و محلات کا مالک ہونا بتایا گیا ہے۔ اس کے مطلب یہ ہے کہ جب تم دیکھو کہ شریف النسل، عالی خاندان اور مہذب و معزز لوگ انقلاب عالم کا شکار ہو کر غربت و افلاس اور بےروز گاری و پریشانی حالی کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں، اپنی حیثیت و وقعت کھو چکے ہیں اور معاشرتی و سماجی سطح پر کسی اثر و رسوخ کے حامل نہیں رہ گئے ہیں اور ان کے مقابلے میں وہ لوگ کہ جو کل تک حسب و نسب، شرافت و نجابت، نسل و خاندان اور تہذیب و شائستگی کے اعتبار سے نہایت بےحیثیت و بےوقعت تھے، تعلیمی و اخلاقی طور پر کم تر و پسماندہ سمجھے جاتے تھے۔ غیر منصفانہ سیاست و انقلاب کی بدولت حکومت و اقتدار کے مالک بن بیٹھیں۔ دغا و فریب کے ذریعہ مال و دولت اور بڑی بڑی جائیدادوں پر قابض اور عالی شان مکانات و محلات کے مکین ہوگئے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ طاقت و حکومت، مال و دولت اور پر عیش زندگی نے ان کو گھمنڈی شیخی خور بنادیا ہے، حقیقی شرافت و نجابت رکھنے والے غریب و مفلس لوگوں کا وہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کو ذلیل کرتے ہیں اور ان کی تباہی و رسوائی کے بد سے بدتر حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو سمجھنا کہ اب اس دنیا کے خاتمہ کا وقت قریب آگیا ہے۔ اسی تفصیل کو علامہ طیبی نے چند جملوں میں اس طرح بیان کیا ہے کہ قیامت کی علامتیں بتانے والے حدیث کے یہ دونوں جملے دراصل انقلاب حالات سے کنایہ ہیں یعنی جب اتنا انقلاب رونما ہوجائے کہ اپنی اولاد اپنا آقا اور حاکم بن جائے۔ اور شرفاء کی جگہ کمتر و ذلیل لے لیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اب تمام عالم پر ایک عظیم انقلاب کا وقت قریب آگیا ہے جسے قیامت کہا جاتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ اس حدیث میں شریعت محمدی ﷺ کی اساس اور دین کی بنیادی باتوں کو بتایا گیا ہے یعنی ایمان کی تعریف بیان کی گئی ہے کہ یہ ان عقائد و نظریات سے تعبیر ہے جن کو جاننے اور ماننے کے بعد کوئی آدمی دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور مومن بنتا ہے اسلام کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس سے وہ عملی ذمہ داریاں (فرائض) مراد ہیں جو مومن پر عائد ہوتی ہیں اور ان عملی ذمہ داریوں یعنی فرائض کی انجام دہی ہی پیرو اسلام یعنی مسلمان بناتی ہے اس کے بعد احسان کی وضاحت کی گئی جس کو اخلاص سے (یا تصوف سے بھی) تعبیر کیا جاسکتا ہے یہ اس کیفیت کا نام ہے۔ جو صحیح عقائد و نظریات سے وابستگی اور شریعت کی اتباع و فرمانبرداری کے بعد توجہ الی اللہ کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے۔ اور بندے کو اپنے معبود کا تقرب عطا کرتی ہے۔ درحقیقت یہ تینوں چیزیں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں، اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی خوشنودی اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک اللہ اور اللہ کے رسول کے جاری و نافذ کئے ہوئے احکام و ہدایات پر پوری طرح عمل نہ کیا جائے اور عمل اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک اس وقت تک حسن قبول کا درجہ نہیں پاسکتے جب تک اللہ کی طرف کامل توجہ نہ ہو اور پورے داخلی و خارجی وجود پر خوف و خشیت الہٰی اور حضور قلب کی کیفیت طاری نہ ہو اور ان دونوں کا اس وقت تک کوئی اعتبار نہیں ہوگا جب تک فکر و عقیدہ صحیح نہ ہو۔ اور دل و دماغ ایمان و یقین سے روشن نہ ہوں۔ پس کامل مومن یا کامل مسلمان وہی آدمی مانا جائے گا جس کا دل و دماغ میں ایمان یعنی صحیح اسلامی عقائد و نظریات کا نور موجود ہو، پھر وہ ان فرائض کو پوری طرح ادا کرے اور ان احکام و ہدایات کی کامل اطاعت کرے جو اللہ نے اپنے رسول کے ذریعہ جاری و نافذ کئے اور پھر ریاضیت و مجاہد یعنی ذکر و شغل اور اوراد وظائف کے ذریعہ اخلاص، توجہ الی اللہ اور رضاء مولیٰ کے حصول کی جدوجہد کرے جس سے ایمان و اسلام میں حسن و کمال اور بلند قدری ملتی ہے۔
Top