Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - عیدین کا بیان - حدیث نمبر 2172
وعن عقبة بن عامر قال : قلت يا رسول الله اقرأ سورة ( هود ) أو سورة ( يوسف ) ؟ قال : لن تقرأ شيئا أبلغ عند الله من ( قل أعوذ برب الفلق ) رواه أحمد والنسائي والدارمي
معوذتین کی فضیلت
حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں (پناہ چاہنے اور شر و برائی کے دفعیہ کے لئے) سورت ہود یا سورت یوسف پڑھ لیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا تم اللہ کے نزدیک قل اعوذ برب الفلق سے زیادہ بہتر کوئی چیز (یعنی کوئی سورت یا آیت) ہرگز نہیں پڑھ سکتے۔ (احمد، نسائی، دارمی)
تشریح
لن تقرأ شیئا ابلغ عند اللہ کا مطلب یہ ہے کہ آفات و بلاؤں اور برائیوں سے پناہ چاہنے کے سلسلہ میں اس سورت یعنی قل اعوذ برب الفلق سے زیادہ کامل اور بہتر دوسری کوئی سورت نہیں ہے کیونکہ یہ سورت سب سے زیادہ کامل ہے جس میں ہر مخلوق کی برائی اور شر سے پناہ مانگی گئی ہے قل اعوذ برب الفلق من شر ما خلق (آپ کہئے کہ میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوقات کے شر سے)۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پناہ چاہنے کے سلسلہ میں دونوں سورتیں یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس سے زیادہ کامل اور کوئی سورت نہیں ہے۔ ابن مالک کہتے ہیں کہ اس جملہ سے مقصود ان دونوں سورتوں کے ذریعہ پناہ طلب کرنے کی رغبت دلانا ہے گویا علامہ طیبی اور ابن مالک دونوں کے قول کا حاصل یہ ہے کہ اس ارشاد گرامی میں صرف ایک سورت یعنی قل اعوذ برب الفلق ذکر کی گئی ہے اور چونکہ قرینہ سے دوسری سورت یعنی قل اعوذ برب الناس بھی مفہوم ہوتی ہے اس لئے یہاں یہ دونوں سورتیں مراد ہیں۔
Top