Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 2787
وعن جابر بن عبد الله : أن أعرابيا بايع رسول الله صلى الله عليه و سلم فأصاب الأعرابي وعك بالمدينة فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا محمد أقلني بيعتي فأبى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم جاءه فقال : أقلني بيعتي فأبى ثم جاءه فقال : أقلني بيعتي فأبى فخرج الأعرابي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما المدينة كالكير تنفي خبثها وتنصع طيبها
مدینہ کی خصوصیت
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں رہنے کی آپ ﷺ سے بیعت کی، کچھ ہی دنوں کے بعد جب وہ مدینہ کے شدید بخار میں مبتلا ہوا اور اس صورت میں اس سے مدینہ رہنا گوارا نہ ہوا اور وہاں سے چلے جانے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد! میری بیعت فسخ کر دیجئے۔ مگر آپ ﷺ نے انکار کردیا، وہ پھر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد! میری بیعت فسخ کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے اس مرتبہ بھی انکار کردیا، اس کے بعد وہ پھر آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! میری بیعت فسخ کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے پھر انکار کردیا، چناچہ وہ آپ ﷺ کی اجازت کے بغیر ہی مدینہ سے بھاگ گیا، جب آپ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی مانند ہے جو اپنے میل کو دور کردیتا ہے اور اپنے اچھے آدمی کو نکھار دیتا ہے یعنی برے آدمی کو نکال باہر کرتا ہے اور پاک باطن و مخلص آدمی کو پلید ذہن اور بدطینت آدمی سے الگ کردیتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے اس کی بیعت کو فسخ کرنے سے اس لئے انکار فرمایا کہ جس طرح اسلام کی بیعت کو فسخ کردینا جائز نہیں تھا اسی طرح آپ ﷺ کے ساتھ رہنے کی بیعت کو بھی فسخ کردینے کی اجازت نہیں تھی۔ علماء لکھتے ہیں کہ مدینہ کی اس خاصیت یعنی برے آدمیوں کو نکال دینے اور اچھے آدمیوں کو خالص کردینے کا تعلق یا تو آنحضرت ﷺ ہی کے زمانہ کے ساتھ خاص تھا یا پھر آخر زمانہ میں قیامت کے قریب اس مقدس شہر کی یہ خاصیت ظاہر ہوگی کہ جب دجال نمودار ہوگا تو مدینہ کو تین مرتبہ ہلایا اور جھنجھوڑا جائے گا چناچہ اس وقت مدینہ میں جتنے بھی برے لوگ ہوں گے (خواہ وہ کافر ہوں یا منافق) اس شہر سے نکل پڑیں گے اور دجال کے پاس پہنچ جائیں گے، نیز یہ احتمال بھی ہے کہ اس خاصیت کا تعلق ہر زمانہ کے ساتھ ہو۔
Top