Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 2042
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات وعليه صوم صام عنه وليه
میت کے ذمہ روزوں کا فدیہ
حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کے ورثاء روزہ رکھیں (یعنی فدیہ دیں) (بخاری ومسلم)
تشریح
جس شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کے ذمہ روزے واجب ہوں تو اس کے بارے میں بھی علماء کے اختلافی مسلک ہیں چناچہ اکثر علماء کہ جن میں حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہم اللہ بھی شامل ہیں یہ فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کی طرف سے کوئی دوسرا روزہ نہ رکھے بلکہ اس کے ورثاء اس کے ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو فدیہ دیں چناچہ ان حضرات کی طرف سے اس حدیث کی یہی تاویل کی جاتی ہے کہ یہاں روزہ رکھنے سے مراد فدیہ دینا ہے کیونکہ فدیہ دینا بھی بمنزلہ روزہ رکھنے کے ہے اور اگلی حدیث اس توجیہ و تایل کی بنیاد ہے۔ میت کی طرف سے روزہ رکھنے سے اس لئے منع کیا جاتا ہے کہ ایک حدیث میں جو اس باب کے آخر میں آرہی ہے صراحت کے ساتھ اس کی ممانعت فرمائی گئی حضرت امام احمد حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میت کی طرف سے اس کا وارث روزے رکھے۔ مذکورہ بالا مسئلہ کے سلسلہ میں حنفیہ کا یہ مسلک بھی ہے کہ اگر مرنے والے فدیہ کے بارے میں وصیت کر جائے تو وارث پر میت کی طرف سے فدیہ مذکور ادا کرنا واجب ہے۔ جب کہ وہ فدیہ میت کی تہائی مال میں سے نکل سکتا ہو لہٰذا اگر فدیہ مقدار اس کے تہائی مال کے مقدار سے زائد ہوگی تو وارث پر فدیہ کی اس مقدار کی ادائیگی واجب نہیں جو تہائی مال سے زائد ہو۔ ہاں اگر وارث اس زائد مقدار کو بھی ادا کر دے گا تو نہ صرف یہ کہ وارث کا یہ عمل جائز شمار ہوگا بلکہ میت پر اس کا احسان بھی ہوگا، لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ یہ پورا مسئلہ اس صورت سے متعلق ہے جب کہ مرنے والے کے ذمہ وہ روزے ہوں جن کی قضا اس کے مرنے سے پہلے ممکن رہی ہو۔ مثلا رمضان کا مہینہ گزر جانے کے بعد کسی ایسے مہینہ میں اس کا انتقال ہو جس میں وہ مرنے سے پہلے رمضان کے وہ روزے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے رکھنے سے رہ گئے تھے ان کی وہ قضا کرسکتا تھا اور اگر رمضان کے کچھ روزے فوت ہوگئے ہوں (مثلا رمضان ہی کے مہینہ میں اس کا انتقال ہوا ہو اور انتقال سے پہلے کچھ روزے رکھنے سے رہ گئے کہ جن کی قضا ممکن نہ ہو تو پھر ان کا تدارک یعنی ان روزوں کے بدلہ فدیہ دینا لازم ہے اور نہ مرنے والے پر فوت شدہ روزوں کا کوئی گناہ ہوگا چناچہ تمام علماء کا یہی مسلک ہے البتہ طاؤس اور قتادہ کہتے ہیں کہ ان روزوں کا تدارک اور فدیہ بھی لازم ہوگا جن کی قضا کے ممکن ہونے سے پہلے ہی اس کا انتقال ہوگیا ہوگا۔ امام شافعی کا مسلک یہ ہے مرنے والا وصیت کرے یا نہ کرے۔ اس کے فوت شدہ روزوں کے بدلے اس کے کل مال میں سے فدیہ ادا کرنا ضروری ہے مذکورہ بالا مسئلہ میں حضرت امام احمد کا جو مسلک ہے وہ پہلی حدیث کی تشریح میں بیان کیا جا چکا ہے۔
Top