مشکوٰۃ المصابیح - طب کا بیان - حدیث نمبر 4426
آیات شفا
حضرت شیخ ابوالقاسم قشیری سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا، ایک مرتبہ میرا بچہ سخت بیمار ہوا یہاں تک کہ ہم سب اس کی زندگی سے مایوس ہوگئے اسی دوران میں نے رسول کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا اور آپ ﷺ سے اپنے بچے کی بیماری کے بارے میں عرض کیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم آیات شفا سے بیخبر کیوں ہو؟ پھر جب میں بیدار ہوا اور قرآن کریم سے آیات شفا کی تلاش شروع کی یہاں تک کہ میں نے قرآن میں چھ جگہوں پر آیات شفا پائیں جو یہ ہیں۔ ا یت (1) (وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ ) 9۔ التوبہ 14) ا یت (2) (وَشِفَا ءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ) 10۔ یونس 57) ا یت (3) ( شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُه فِيْهِ شِفَا ءٌ لِّلنَّاسِ ) 16۔ النحل 69) ا یت (4) (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَا ءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ) 17۔ الاسراء 82) ا یت (5) (وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ ) 26۔ الشعرا 80) ا یت (6) (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَا ءٌ) 41۔ فصلت 44) چنانچہ میں نے ان آیات کو لکھا اور پانی میں دھو کر بچے کو پلا دیا جس سے وہ اتنی جلدی اچھا ہوگیا کہ جیسے ان کے پیروں کا بند کھول دیا گیا ہے۔ قاضی بیضاوی نے بھی اپنی تفسیر میں ان آیات شفا کی طرف اشارہ کیا ہے، اسی طرح سعد حلیبی نے تفسیر بیضاوی کے حاشیہ میں ان آیات شفا کا تعین کرتے ہوئے ابوالقاسم قشیری کی مذکورہ بالا حکایات کو نقل کیا ہے۔ لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھنے، ان آیات کو پڑھ کر مریض پر دم کرنے اور ان کو چینی کے برتن پر لکھ کر اور اس کو دھو کر مریض کو پلانے کا ذکر کیا ہے۔ نیز حضرت شیخ تاج الدین سبکی سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے بہت سے مشائخ کو دیکھا کہ وہ بیماریوں سے شفا حاصل کرنے کے لئے ان آیات کو لکھا کرتے تھے۔ رہی یہ بات کہ حصول شفا کے لئے ان آیات کے صرف مذکورہ بالا اجزاء کو لکھا جائے یا پوری آیتیں لکھی جائیں تو اس سلسلہ میں نقل کرنے والوں نے اکابر ومشائخ کا جو عمل دیکھا ہے وہ صرف ان ہی مذکورہ اجزاء کو لکھا جانا ہے۔
Top