Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3969 - 4060)
Select Hadith
3969
3970
3971
3972
3973
3974
3975
3976
3977
3978
3979
3980
3981
3982
3983
3984
3985
3986
3987
3988
3989
3990
3991
3992
3993
3994
3995
3996
3997
3998
3999
4000
4001
4002
4003
4004
4005
4006
4007
4008
4009
4010
4011
4012
4013
4014
4015
4016
4017
4018
4019
4020
4021
4022
4023
4024
4025
4026
4027
4028
4029
4030
4031
4032
4033
4034
4035
4036
4037
4038
4039
4040
4041
4042
4043
4044
4045
4046
4047
4048
4049
4050
4051
4052
4053
4054
4055
4056
4057
4058
4059
4060
مشکوٰۃ المصابیح - شکار کا بیان - حدیث نمبر 4097
وعن أيوب قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتي بطعام أكل منه وبعث بفضله إلي وإنه بعث إلي يوما بقصعة لم يأكل منها لأن فيها ثوما فسألته : أحرام هو ؟ قال : لا ولكن أكرهه من أجل ريحه . قال : فإني أكره ما كرهت . رواه مسلم
لہسن کھانا جائز ہے
اور حضرت ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کھانا لایا جاتا تو آپ ﷺ اس میں سے کھاتے اور باقی بچا ہوا میرے پاس بھیج دیتے۔ ایک روز آپ ﷺ نے میرے پاس (ایسا) پیالہ بھیجا (جس میں کھانا تھا) اور اس میں سے خود کچھ نہیں کھایا تھا اس لئے کہ اس میں لہسن تھا میں نے پوچھا کہ کیا لہسن حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ نہیں! بلکہ اس کی بو کے سبب میں اس کو (کھانا) پسند نہیں کرتا۔ حضرت ابوایوب ؓ نے عرض کیا۔ تو پھر (میں بھی اس کھانے کو نہیں کھاؤں گا کیونکہ) جس چیز کو آپ ﷺ نے ناپسند کیا ہے اس کو میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ (مسلم)
تشریح
حضرت ابوایوب انصاری ؓ بڑے جلیل القدر انصاری صحابی ہیں ان کو ایک امتیازی درجہ حاصل ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر بار چھوڑ کر مکہ سے ہجرت فرمائی اور مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت ابوایوب انصاری ؓ ہی کے ہاں اترے اور ان کو میزبان رسول بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اور ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوایوب ؓ نے جس معمول کا ذکر کیا ہے، (کہ آنحضرت ﷺ باقی بچا ہوا کھانا اس کے پاس بھجواتے تھے) وہ انہی دنوں کا ہو جب کہ آپ ﷺ حضرت ابوایوب کے ہاں قیام فرما تھے۔ میں اس کو پسند نہیں کرتا اس ارشاد میں کھانے کو عیب لگانا مقصود نہیں ہے بلکہ اصل میں اس چیز کا اظہار مقصود ہے کہ اس کی بو مسجد میں جانے اور ملائکہ کے سامنے آنے سے روکتی ہے۔ نووی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی تصریح ہے کہ لہسن کا کھانا مباح ہے، لیکن اس شخص کے لئے مکروہ ہے جو جماعت میں شریک ہونے کا ارادہ رکھتا ہو (یعنی لہسن کھا کر نماز کے لئے مسجد میں جانا مکروہ ہے) اور یہی حکم ہر اس چیز کا ہے جس سے بدبو پیدا ہوتی ہو، جہاں تک آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کا تعلق ہے تو چونکہ آپ ﷺ ہر لمحہ وحی کے نازل ہونے کا متوقع رہتے تھے، اس لئے آپ ﷺ کبھی بھی لہسن نہیں کھاتے اور اس سے مکمل اجتناب فرماتے تھے۔ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، کہ پیاز، لہسن اور گندنا کا حکم آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کے لئے کیا تھا آیا یہ چیزیں آپ ﷺ کے لئے حرام تھیں یا نہیں؟ چناچہ بعض علماء نے یہ کہا کہ یہ چیزیں آنحضرت ﷺ کی ذات خاص کے لئے حرام نہیں تھیں ان کے نزدیک زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی تھیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانے والے اور پینے والے کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ جو چیز کھا یا پی رہا ہو اس میں سے کچھ باقی چھوڑ دے اور پھر اس کو اپنے محتاج ہمسایوں میں تقسیم کر دے۔ جس چیز کو آپ ﷺ نے ناپسند کیا ہے۔۔۔ الخ۔، اس بات میں یا تو آنحضرت ﷺ کی اتباع کامل کی طرف اشارہ ہے کہ آپ لہسن کو چونکہ ناپسند کرتے ہیں اس لئے میں بھی اس کو ہمیشہ ناپسند کروں گا، یا یہ کہ حضرت ابوایوب انصاری ؓ نے اپنے اس ارادہ کا اظہار کیا کہ جماعت میں شریک ہونے کے لئے مسجد جاتے وقت میں لہسن کا استعمال نہیں کروں گا۔
Top