Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3969 - 4060)
Select Hadith
3969
3970
3971
3972
3973
3974
3975
3976
3977
3978
3979
3980
3981
3982
3983
3984
3985
3986
3987
3988
3989
3990
3991
3992
3993
3994
3995
3996
3997
3998
3999
4000
4001
4002
4003
4004
4005
4006
4007
4008
4009
4010
4011
4012
4013
4014
4015
4016
4017
4018
4019
4020
4021
4022
4023
4024
4025
4026
4027
4028
4029
4030
4031
4032
4033
4034
4035
4036
4037
4038
4039
4040
4041
4042
4043
4044
4045
4046
4047
4048
4049
4050
4051
4052
4053
4054
4055
4056
4057
4058
4059
4060
مشکوٰۃ المصابیح - شکار کا بیان - حدیث نمبر 3695
وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنما أنا بشر وإنكم تختصمون إلي ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي له على نحو ما أسمع منه فمن قضيت له بشيء من حق أخيه فلا يأخذنه فإنما أقطع له قطعة من النار
مدعی کو ایک ہدایت
اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی شک نہیں کہ میں ایک انسان ہوں اور تم اپنے قضیے (جھگڑے) لے کر میرے پاس آتے ہو، ممکن ہے تم میں سے کوئی شخص اپنے دلائل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ فصیح وبلیغ بیان کا حامل ہو اور میں اس کا (مدلل) بیان سن کر اسی کے مطابق فیصلہ کر دوں لہٰذا وہ شخص کہ میں جس کے حق میں کسی ایسی چیز کا فیصلہ کروں جو حقیقت میں اس کے بھائی مسلمان کی ہو، اس چیز کو نہ لے کیونکہ (ایسی صورت میں گویا) میں اس کے حق میں آگ کے ایک ٹکڑے کا فیصلہ کروں گا۔ (بخاری، ومسلم)
تشریح
میں ایک انسان ہوں کے ذریعہ اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ سہو اور نسیان کسی انسان سے بعید نہیں ہے اور انسان کی فطرت اور وضع بشری کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ کسی معاملہ کے صرف اسی پہلو کو دیکھے جو ظاہری طور پر عیاں ہو اور اس کے متعلق اسی بات کو قبول کرے جو ایک کھلی ہوئی دلیل کی صورت میں اس کے سامنے آئے اور چونکہ میں بھی ایک انسان اور اس حیثیت سے وہ تمام احکام و عوارض مجھ پر بھی پیش آتے ہیں جو بشریت کا خاصہ ہیں اور جن کا تعلق انسانی جبلت سے ہے، لہٰذا جن معاملات میں مجھے وحی کے ذریعہ براہ راست بار گاہ الوہیت سے حقیت رسی کی قوت عطا کی جاتی ہے اور حق سبحانہ تعالیٰ کی جانب سے مجھے تعلیم و ہدایت دی جاتی ہے ان کے علاوہ دوسرے امور میں مجھے انہی ضابطوں اور قاعدوں کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے جن کی بنیاد انسانی عقل اور بشری تقاضوں پر ہے۔ چناچہ جب میرے سامنے کوئی قضیہ آتا ہے تو میں اس کے ظاہری پہلوؤں کے مطابق ہی فیصلہ کرتا ہوں۔ اگر مدعی اپنے دلائل اپنے گواہ اور اپنے زور بیان سے میرے سامنے یہ ثابت کردیتا ہے کہ اس کا دعوی صحیح ہے اور اس نے جس چیز کا مطالبہ کیا ہے وہ اسی کا حق ہے تو میں اس کے حق میں فیصلہ کردیتا ہوں کہ ظاہری حکم کا تقاضہ یہی ہے اب اس کے بعد مدعی جانے کہ اگر حقیقت میں اس کا دعوی صحیح ہے اور جس چیز کا اس نے مطالبہ کیا ہے وہ اسی کا حق ہے تو وہ اپنی مراد پالے۔ لیکن اگر حقیقت میں اس کا دعوی صحیح نہ تھا اور جس چیز کا اس نے مطالبہ کیا تھا وہ اس کا حق نہیں تھا بلکہ کسی دوسرے کا حق تھا اور میں نے اس کے ظاہری دلائل و ثبوت اور اس کی چرب زبانی اور قوت لسانی سے یہ سمجھا کہ اس کا دعوی صحیح ہے۔ اور اس کا مدعا اس کو دلوا دیا تو اس کو چاہئے کہ وہ اس چیز کو اپنے حق میں حلال نہ جانے بلکہ یہ سمجھ کر کہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو ملا ہے۔ اس سے اجتناب کرے۔
Top