Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5045 - 5119)
Select Hadith
5045
5046
5047
5048
5049
5050
5051
5052
5053
5054
5055
5056
5057
5058
5059
5060
5061
5062
5063
5064
5065
5066
5067
5068
5069
5070
5071
5072
5073
5074
5075
5076
5077
5078
5079
5080
5081
5082
5083
5084
5085
5086
5087
5088
5089
5090
5091
5092
5093
5094
5095
5096
5097
5098
5099
5100
5101
5102
5103
5104
5105
5106
5107
5108
5109
5110
5111
5112
5113
5114
5115
5116
5117
5118
5119
مشکوٰۃ المصابیح - دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - حدیث نمبر 5105
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : كانت قيمة الدية على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ثمانمائة دينار أو ثمانية آلاف درهم ودية أهل الكتاب يومئذ النصف من دية المسلمين قال : فكان كذلك حتى استخلف عمر رضي الله عنه على أهل الذهب ألف دينار وعلى أهل الورق اثني عشر ألفا وعلى أهل البقر مائتي بقرة وعلى أهل الشاء ألفي شاة وعلى أهل الحلل مائتي حلة قال : وترك دية أهل الذمة لم يرفعها فيما رفع من الدية . رواه أبو داود
دیت کی بنیاد اونٹ پر ہے
اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں دیت (دیت کے سو اونٹوں) کی قیمت آٹھ سو دینار یا آٹھ ہزار درہم تھے، نیز اس زمانہ میں اہل کتاب (یعنی عیسائی اور یہودی) کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف تھی۔ ان کے دادا کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق کے خلیفہ ہونے تک اسی کے مطابق عمل درآمد ہوتا رہا۔ چناچہ عمر (خلیفہ ہونے کے بعد) خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اونٹ کی قیمت بڑھ گئی ہے راوی کا بیان ہے کہ (اس کے بعد) حضرت عمر نے جو دیت مقرر کی تھی اس کی تفصیل یہ ہے کہ سونا رکھنے والوں پر ایک ہزار دینار، چاندی رکھنے والوں پر بارہ ہزار درہم، گائے کے مالکوں پر دو سو گائیں، بکری کے مالکوں پر دو ہزار بکریاں اور کپڑے کے جوڑوں (کی تجارت کرنے) والوں پر دو سو جوڑے۔ راوی نے کہا کہ حضرت عمر نے ذمیوں کی دیت جوں کی توں رکھی تھی (یعنی آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ذمیوں کی دیت چار ہزار درہم تھی حضرت عمر نے اسی کو برقرار رکھا اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جیسا کہ اور دیتوں میں اضافہ ہوا۔ (ابو داؤد )
تشریح
بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ دیت کی بنیاد اونٹ پر ہے، چناچہ دیت میں سونا اور چاندی کی جو مقدار بیان کی گئی ہے وہ اس زمانہ میں سو اونٹ کی قیمت کا حساب لگا کر بیان کی گئی تھی، اسی لئے قول جدید کے مطابق شافعی مسلک یہ ہے کہ اختلاف قیمت کے اعتبار سے ان دونوں کی مقدار میں فرق ہوسکتا ہے۔ ابن ملک کہتے ہیں کہ کپڑے کے جوڑے سے مراد ایک تہبند اور ایک چادر ہے۔ اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا الخ کے بارے میں طیبی کہتے ہیں کہ جب مسلمان کی دیت بارہ ہزار درہم مقرر ہوئی اور ذمی کی دیت وہی رہی جو پہلے تھی یعنی چار ہزار درہم تو اس اعتبار سے ایک ذمی کی دیت، ایک مسلمان کے دیت کا ثلث (تہائی) ہوئی۔ چنانچہ اس سے شوافع اور ان کے ہمنوا یہ استدلال کرتے ہیں کہ ذمی کی دیت، مسلمان کی دیت کا ثلث ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک میں ذمی کی وہی دیت ہے جو مسلمان کی ہے۔ شمنی (رح) نے کہا ہے کہ (اس بارے میں جو فقہی مسئلہ ہے اور جس پر عمل ہے وہ یہ ہے کہ) سونے کی دیت ایک ہزار دینار، چاندی کی دیت دس ہزار درہم اور اونٹ کی دیت سو اونٹ ہیں لیکن امام شافعی کے نزدیک چاندی کی دیت بارہ ہزار درہم ہیں۔
Top