Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5045 - 5119)
Select Hadith
5045
5046
5047
5048
5049
5050
5051
5052
5053
5054
5055
5056
5057
5058
5059
5060
5061
5062
5063
5064
5065
5066
5067
5068
5069
5070
5071
5072
5073
5074
5075
5076
5077
5078
5079
5080
5081
5082
5083
5084
5085
5086
5087
5088
5089
5090
5091
5092
5093
5094
5095
5096
5097
5098
5099
5100
5101
5102
5103
5104
5105
5106
5107
5108
5109
5110
5111
5112
5113
5114
5115
5116
5117
5118
5119
مشکوٰۃ المصابیح - دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - حدیث نمبر 728
وَعَنْ اَبِی سَعِیْدٍالخُدْرِیِّ قَالَ بَیْنَمَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی بِاَصْحَابِہٖ اِذْ خَلَعَ نَعْلَیْہِ فَوَضَعَھُمَا عَنْ یَسَارِہِ فَلَمَّا رَایْ ذٰلِکَ القَوْمُ اَلْقُوْا نِعَالَھُمْ فَلَمَّا قَضَی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمصَلَاتَہ، قَالَ مَا حَمَلَکُمْ عَلَی اِلْقَائِکُمْ نِعَالَکُمْ قَالُوْا رَاَیْنَکَ اَلْقَیْتَ نَعْلَیْکَ فَاَلْقَیْنَا نِعَالَنَا فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ جِبْرِیْلَ اَتَانِی فَأَخْبَرَنِی اَنَّ فِیْھِمَا قَذَرًا اِذَا جَآءَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَنْظُرْ فَاِنْ رَایَ فِی نَعْلَیْہِ قَذَرًا فَلْیَمْسَحُہ، وَالْیُصَلِّ فِیْھِمَا۔ (رواہ ابوداؤد و الدارمی)
ستر ڈھانکنے کا بیان
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ سرور کائنات ﷺ اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ ﷺ نے اچانک اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں طرف (دور ہٹا کر) رکھ لئے جب لوگوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار ڈالے۔ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا کہ تمہیں جوتے اتارنے پر کس چیز نے مجبور کردیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے جوتے اتار ڈالے ہیں اس لئے ہم نے بھی اپنے جوتے اتار ڈالے آپ ﷺ نے فرمایا کہ (اس لئے میں نے تو جوتے اس لئے اتارے تھے کہ) میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے خبر دی کہ میرے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے (اس لئے میں نے جوتے اتاردئیے تھے) تم میں سے جو آدمی مسجد میں آئے تو پہلے وہ اپنے جوتے دیکھ لیا کرے۔ اگر ان میں نجاست لگی ہوئی معلوم ہو تو انہیں صاف کرلے (اور انہیں پہنے ہی پہنے) نماز پڑھ لے۔ (سنن ابوداؤد، دارمی )
تشریح
قذر (قاف کے زبر اور دال معجمہ کے ساتھ) اس چیز کو کہتے ہیں جسے طبیعت مکروہ رکھے اس لفظ سے بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے جوتے میں ایسی نجاست نہیں لگی ہوگی جس سے نماز درست نہ ہوتی ہو بلکہ کوئی گھناؤنی چیز جیسے رینٹھ وغیرہ لگی ہوگی کیونکہ اگر نجاست لگی ہوتی تو آپ ﷺ از سر نو نماز پڑھتے حالانکہ آپ ﷺ نے جتنی نماز پڑھ لی تھی نہ آپ ﷺ نے اس کا اعادہ کیا اور نہ از سر نو نماز پڑھی۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا خبر دینا اور پھر اس خبر کی بناء پر آپ ﷺ کا جوتوں کو اتار دینا اس لئے تھا کہ آپ ﷺ کے مزاج اقدس میں چونکہ صفائی اور ستھرائی بہت زیادہ تھی اس لئے جوتوں پر اس گھناؤنی چیز کا لگا رہنا آپ ﷺ کے مزاج کے مناسب نہیں تھا اور بعض شوافع حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کسی نمازی کے کپڑے وغیرہ پر نجاست لگی ہوئی ہو اور اسے اس کا علم نہ ہو تو نماز ہوجاتی ہے حضرت امام شافعی (رح) کا یہ قول قدیم ہے۔ بہرحال۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی متابعت واجب ہے کیونکہ صحابہ نے کوئی سبب پوچھے بغیر محض آپ ﷺ کو جوتے اتارتے دیکھ کر اپنے جوتے فوراً اتار ڈالے اور پھر رسول اللہ ﷺ نے بھی اسے جائز رکھا۔
Top