Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5045 - 5119)
Select Hadith
5045
5046
5047
5048
5049
5050
5051
5052
5053
5054
5055
5056
5057
5058
5059
5060
5061
5062
5063
5064
5065
5066
5067
5068
5069
5070
5071
5072
5073
5074
5075
5076
5077
5078
5079
5080
5081
5082
5083
5084
5085
5086
5087
5088
5089
5090
5091
5092
5093
5094
5095
5096
5097
5098
5099
5100
5101
5102
5103
5104
5105
5106
5107
5108
5109
5110
5111
5112
5113
5114
5115
5116
5117
5118
5119
مشکوٰۃ المصابیح - دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - حدیث نمبر 5229
وعن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو أن رجلا عمل عملا في صخرة لا باب لها ولا كوة خرج عمله إلى الناس كائنا ما كان .
اخلاص عمل کا اثر
حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اگر کوئی شخص کسی ایسے بڑے پتھر کے اندر بھی کوئی نیک کام کرے کہ جس میں نہ تو کوئی دروازہ ہو اور نہ کوئی روشن دان، تو اس کا وہ عمل لوگوں میں مشہور ہوجائے گا خواہ وہ عمل کسی طرح کا ہو۔
تشریح
صخرۃ اصل میں تو بڑے پتھر کو کہتے ہیں لیکن یہاں اس لفظ سے مراد غار ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ اس لفظ سے اس کے اصل معنی یعنی بڑا پتھر ہی مراد ہو، اس صورت میں کہا جائے گا کہ مذکورہ مفہوم میں اس لفظ کا استعمال بطور مبالغہ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ کوئی شخص پتھر کے اندر بھی گھس کر کوئی نیک کام کرے کہ جس میں نہ کوئی دروازہ ہوتا ہے اور نہ کوئی روشن دان اور اس طرح اس پتھر کے اندر نہ تو داخل ہو کر اور نہ باہر سے جھانک کر دیکھا جاسکتا ہے کہ اندر کون شخص کیا کام کر رہا ہے تو اس صورت میں بھی وہ شخص اپنے اس نیک کام کے ساتھ لوگوں میں بہت مشہور ہوجاتا ہے۔ کوہ یا کوۃ اس سوراخ کو کہتے ہیں جو دیوار و چھت میں ہوتا ہے۔ بعض حضرات نے اس لفظ کی یہ تفصیل بیان کی ہے کہ اگر وہ سوراخ آر پار ہو تو اس کو کوۃ (یعنی کاف کے پیش کے ساتھ) کہا جاتا ہے اور اگر آر پار نہ ہو تو کوۃ (کاف کے زبر کے ساتھ) کہلائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ لفظ حرف تاء کے ساتھ یعنی کوۃ ہو تو اس کے معنی اس سوراخ کے ہوں گے جو چھوٹا اور تنگ ہو اور اگر حرف تاء کے بغیر ہو یعنی کو ہو تو اس صورت میں اس کے معنی اس سوراخ کے ہوں گے جو بڑا اور کشادہ ہو اس روایت میں یہ لفظ چونکہ حرف تا کے ساتھ ہے اس لئے یہاں اس کے معنی اس سوراخ کے ہوں گے جو چھوٹا اور آر پار ہو اور حدیث کے مفہوم کے اعتبار سے یہی معنی مناسب بھی ہیں۔ بہرحال، حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اچھے کام خواہ کتنے ہی پوشیدہ طور پر اور کیسی ہی تنہائی میں کیوں نہ کئے جائیں اور اس بات کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کی جائے کہ وہ اچھے کام لوگوں کے علم میں نہ آئیں مگر پھر بھی وہ لوگوں پر عیاں ہوجاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ کی مصلحت اگر خود اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ نیک بندوں کے نیک عمل جو صدق و اخلاص کے ساتھ صادر ہوتے ہیں، لوگوں پر آشکارا ہوں، تاکہ ایک دوسرے کو اسی طرح نیک راہ اختیار کرنے کی ترغیب حاصل ہو تو پھر اس کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے کہ کوئی شخص اپنے نیک عمل کو ظاہر کرنے کے لئے ریاکاری کی حد تک پہنچ جائے اور اس کی قبولیت وثواب سے خواہ مخواہ محروم رہے۔ یا حدیث کے یہ معنی ہیں کہ مخلص بندہ کو چاہئے کہ وہ اپنے اچھے کاموں کو چھپائے اور اخلاص حاصل کرنے میں زیادہ سے زیادہ احتیاط وسعی کرے کیونکہ بندوں کے نیک عمل ایسی جگہوں سے بھی ظاہر ہوجاتے ہیں جہاں سے ظاہر ہوجانے کی ان کو خبر بھی نہیں ہوتی اور جن کے آشکارا ہونے میں اس کے قصد و اختیار کو دخل بھی نہیں ہوتا۔
Top