مشکوٰۃ المصابیح - خواب کا بیان - حدیث نمبر 4511
وعن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رأى أحدكم الرؤيا يكرهها فليبصق عن يساره ثلاثا وليستعذ بالله من الشيطان ثلاثا وليتحول عن جنبه الذي كان عليه . رواه مسلم . ( متفق عليه )
برا خواب دیکھے تو کیا کرے
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو تو اس کو چاہئے کہ بائیں طرف تین بار تھتکار دے اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے اور اپنی کروٹ کو تبدیل کر دے جس پر وہ خواب دیکھنے کے وقت سویا ہوا تھا۔ (مسلم)

تشریح
یہاں تھتکارنے کے لئے لفظ بصق استعمال کیا گیا ہے جب کہ پچھلی حدیث میں لفظ تفل مذکور ہے، مفہوم و مطلب کے اعتبار سے تو دونوں لفظ بظاہر یکساں ہیں لیکن دونوں میں ایک ہلکا سا فرق یہ ہے کہ تفل کے معنی ہیں منہ سے تھوک نکالنا جب کہ بصق کا مفہوم ہے منہ کے اندر سے (تھوک) نکالنا اس طرح کہ کچھ حلق سے بھی نکلے منہ سے نکلے ہوئے تھوک کو بصاق کہتے ہیں اور بزاق بھی کہا جاتا ہے اس سے واضح ہوا کہ تھتکارنے کے سلسلے میں پہلا درجہ بصق ہے اس کے بعد تفل ہے تفل کے بعد نفث ہے جس کے معنی ہیں لبوں کے تھوک کے ساتھ پھونکنا اور اس کے بعد نفخ ہے جو محض پھونک مارنے کو کہتے ہیں۔ مسلم کی ایک روایت ہے میں فلیبصق کے بجائے فلینفث کا لفظ منقول ہے نیز اس حدیث میں بائیں طرف تھتکارنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ پچھلی حدیث میں مطلق تھتکارنے کا حکم ہے اسی طرح اسی حدیث میں کروٹ تبدیل کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ خواب کے اثرات و کیفیات میں تغیر و تبدیلی کے لئے یہ چیزیں یعنی کروٹ پھیرلینا بہت تاثیر رکھتی ہے۔
Top