Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3718 - 3808)
Select Hadith
3718
3719
3720
3721
3722
3723
3724
3725
3726
3727
3728
3729
3730
3731
3732
3733
3734
3735
3736
3737
3738
3739
3740
3741
3742
3743
3744
3745
3746
3747
3748
3749
3750
3751
3752
3753
3754
3755
3756
3757
3758
3759
3760
3761
3762
3763
3764
3765
3766
3767
3768
3769
3770
3771
3772
3773
3774
3775
3776
3777
3778
3779
3780
3781
3782
3783
3784
3785
3786
3787
3788
3789
3790
3791
3792
3793
3794
3795
3796
3797
3798
3799
3800
3801
3802
3803
3804
3805
3806
3807
3808
مشکوٰۃ المصابیح - جہاد کا بیان - حدیث نمبر 2706
وعن سالم عن ابن عمر : أنه كان يرمي جمرة الدنيا بسبع حصيات يكبر على إثر كل حصاة ثم يتقدم حتى يسهل فيقوم مستقبل القبلة طويلا ويدعو ويرفع يديه ثم يرمي الوسطى بسبع حصيات يكبر كلما رمى بحصاة ثم يأخذ بذات الشمال فيسهل ويقوم مستقبل القبلة ثم يدعو ويرفع يديه ويقوم طويلا ثم يرمي جمرة ذات العقبة من بطن الوادي بسبع حصيات يكبر عند كل حصاة ولا يقف عندها ثم ينصرف فيقول : هكذا رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يفعله . رواه البخاري
رمی جمرات کی ترتیب
حضرت سالم، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (یعنی ابن عمر) نزدیک کے جمرہ یعنی جمرہ اولیٰ پر سات کنکریاں مارنے اور ہر کنکری کے بعد اللہ اکبر کہتے پھر آگے بڑھتے یہاں تک کہ جب نرم زمین پر پہنچتے تو دیر تک (یعنی بقدر تلاوت سورت بقرہ) قبلہ رو کھڑے رہتے اور دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جمرہ وسطی پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہتے، پھر بائیں جانب کو بڑھتے اور نرم زمین پر پہنچ کر قبلہ رو کھڑے ہوجاتے اور دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور دیر تک کھڑے رہتے، پھر وہ وہاں سے واپس ہوتے اور کہتے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (بخاری)
تشریح
مذکورہ بالا ترتیب کے مطابق رمی اگرچہ حنفیہ کے ہاں سنت ہے لیکن احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ اس ترتیب کو ترک نہ کیا جائے کیونکہ یہ ترتیب حضرت امام شافعی وغیرہ کے نزدیک واجب ہے! موالات یعنی تمام جمرات پر پے در پے رمی بھی سنت ہے جب کہ یہ حضرت امام مالک کے مسلک میں واجب ہے۔ من بطن الوادی (بطن وادی سے) یہ بات معلوم ہوئی کہ رمی جمرہ عقبہ، بطن وادی سے (یعنی نشیبی حصہ میں کھڑے ہو کر) کی جائے چناچہ نشیب میں کھڑے ہو کر رمی کرنا مسنون ہے۔ لیکن ہدایہ میں لکھا ہے کہ اگر اوپر کی جانب سے جمرہ عقبہ پر کنکریاں پھینکی جائیں تو اس طرح بھی رمی ہوجائے گی مگر یہ خلاف سنت ہے۔ جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطی کے پاس ٹھہرنا اور حمد و صلوٰۃ اور وہاں دعا میں مشغول ہونا تو ثابت ہے لیکن تیسرے جمرہ یعنی جمرہ عقبی کے پاس ٹھہرنا اور دعا مانگنا ثابت نہیں ہے اور اس کی کوئی وجہ علت منقول نہیں ہے اگرچہ بعض علماء نے اس بارے میں کچھ نہ کچھ لکھا ہے۔
Top