Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 614
عَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِرَبِّہِ قَالَ لَمَّا اَمَرَرَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِالنَّا قُوْسِ یُعْمَلُ لِیُضْرَبَ بَہٖ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَلَاۃِ طَافِ بِی وَاَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوْسًا فِی یَدِہٖ فَقُلْتُ یَا عَبْدَاﷲ اَتَبِیْعُ النَّاقَوْسَ قَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِہٖ قُلْتُ نَدْعُوْ بِہٖ اِلَی الصَّلَۃِ قَالَ اَفَلَا اَدُلْکَ عَلَی مَاھُوَ خَیْرٌ مِنْ ذٰلِکَ فَقُلْتُ لَہ، بَلُی قَالَ فَقَالَ تَقُوْلُ اﷲُ اَکْبَرُ اِلَی اٰخِرِہٖ وَکَذَا الْاِ قَامَۃَ فَلَمَّا اَصْبَحْتُ آتَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَخْبَرْ تُہ، بِمَا رَأَیْتُ فَقَالَ اِنَّھَا لَرُوْیَا حَقٌ اِنَّ شَآءَ اﷲُ تَعَالٰی فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَا رَأَیْت فَلْیُؤَذِّنْ بِہٖ فَاِنَّہُ اَنْدٰی صَوْتًا مِنْکَ فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ اُلْقِیْہٖ عَلَیْہِ وَیُؤَذِّنُ بِہٖ قَالَ فَسَمِعَ بِذٰلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَھُوَ فِیْ بَیْتِہٖ فَخَرَجَ یَجُرُّر دَأَہ، یَقُوْلُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ فَقَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ مَأُرِیَ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ الدَّرِامِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃُ اِلَّا اَنَّہُ لَمْ یَذْکُرِ الْاِ قَامَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ لَکِنَّہُ لَمْ یُصَرِّحْ قِصَّۃَ النَّا قَوْسِ۔
اذان کا بیان
اور حضرت عبداللہ ابن زید بن عبدربہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب سرور کائنات ﷺ نے ناقوس بنائے جانے کا حکم دیا تاکہ نماز کی جماعت میں لوگوں کے حاضر ہونے کے لئے اسے بجایا جائے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ناقوس لئے ہوئے (جاتا) ہے میں نے اس آدمی سے کہا کہ بندہ خدا! کیا تم یہ ناقوس بیچو گے؟ اس آدمی نے کہا کہ تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا کہ ہم اسے بجا کر لوگوں کو نماز ( کی جماعت) کے لئے بلایا کریں گے۔ اس نے کہا کہ کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتادوں؟ میں نے کہا کہ ہاں ضرور بتاؤ! اس آدمی نے کہا کہ کہو اللہ اکبر تک اس نے اذان بتا کر پھر اسی طرح اقامت بھی بتائی، جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور جو کچھ خواب میں دیکھا تھا آپ ﷺ سے بیان کیا، آپ ﷺ نے (خواب سن کر) فرمایا کہ انشاء اللہ تعالیٰ خواب سچا ہے، اب تم بلال ؓ کے ساتھ کھڑے ہو کر جو کچھ خواب میں دیکھا ہے انہیں بتائے جاؤ اور وہ اذان کہیں کیونکہ وہ تم سے بلند آواز ہیں۔ چناچہ میں بلال ؓ کے ساتھ کھڑا ہو کر انہیں سکھلاتا گیا اور وہ اذان دیتے رہے۔ روای فرماتے ہیں کہ، حضرت عمر ابن خطاب ؓ نے جب اپنے مکان میں اذان کی آواز سنی تو (جلدی کی بنا پر) اپنی چادر کھینچتے ہوئے مکان سے باہر نکلے اور یہ کہتے ہوئے (رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں) حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے ( یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ الحمد اللہ (یعنی سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں) یہ حدیث ابوداؤد، دارمی اور ابن ماجہ نے نقل کی ہے مگر ابن ماجہ نے تکبیر کا ذکر نہیں کیا اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن انہوں نے ناقوس کے قصے کی تصریح نہیں کی۔
تشریح
حدیث کے پہلے جزء کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ناقوس بجانے کا حکم دے دیا تھا۔ بلکہ یہاں حکم کا مطلب یہ ہے کہ جب اس سلسلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے مشورہ کیا اور کوئی مناسب تجویز ذہن میں نہیں آئی تو آپ ﷺ نے ناقوس بجانے کا حکم دینے کا ارادہ فرمایا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ ابن زید کے ؓ کو خواب کے ذریعے اس کی نوبت نہ آنے دی۔ یہ حدیث حنفیہ کے مسلک کی موید ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تکبیر اور اذان کے کلمات میں کوئی فرق نہیں ہے جس طرح اذان کے کلمات کو سوائے شروع میں اللہ اکبر اور آخر میں لا الہ الا اللہ کے دو دو مرتبہ کہا جاتا ہے اسی طرح تکبیر کے کلمات کو بھی دو مرتبہ کہا جاتا ہے البتہ تکبیر میں صرف قد قامت الصلوۃ کا اضافہ ہے جو اذان میں نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ ابن زید ؓ کے خواب کو سن کر رسول اللہ ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی کہ یہ خواب سچا ہے اب اس تصدیق کا تعلق یا تو وحی سے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس خواب کے سچا ہونے کی خبر دے دی تھی اس لئے آپ ﷺ نے بھی اسے حق کہا یا پھر آپ ﷺ نے اجتہاد کی بناء پر اس خواب کو سچا مانا۔ اس موقعہ پر آپ ﷺ کا انشاء اللہ کہنا برکت اور اظہار طمانیت کے طور پر تھا۔ نہ کہ شک کے لئے۔ اذان کی آواز سن کر حضرت عمر فاروق ؓ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر جو یہ کہا کہ میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا تھا تو ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ بات اس وقت کہی ہو جب انہیں معلوم ہوگیا ہو کہ یہ اذان حضرت عبداللہ ابن زید ؓ کے خواب کے نتیجے میں کہی گئی ہے یا پھر انہیں اس خواب کا علم مکاشفہ کے ذریعے ہوگیا ہوگا۔ نووی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ مؤذن کا بلند آواز اور خوش گلو ہونا مستحب ہے۔ آخر میں اتنی بات اور جان لیجئے کہ اذان کی مشروعیت ٢ ھ میں ہوئی ہے مگر کچھ علماء کی تحقیق یہ ہے کہ اذان ہجرت کے پہلے سال مشروع ہوئی ہے۔
Top