Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 4807
عن أبي هريرة قال قال رجل يا رسول الله من أحق بحسن صحابتي ؟ قال أمك . قال ثم من ؟ قال أمك . قال ثم من ؟ قال أمك . قال ثم من ؟ قال أبوك . وفي رواية قال أمك ثم أمك ثم أمك ثم أباك ثم أدناك أدناك . متفق عليه
اولاد پر ماں کے حقوق
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ میری اچھی رفاقت یعنی میری طرف سے حسن سلوک و احسان اور خدمت گزاری کا سب سے زیادہ مستحق کون شخص ہے؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں اس نے عرض کیا پھر کون؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں اس نے عرض کیا پھر کون؟ آپ نے فرمایا تیری ماں اس نے عرض کیا پھر کون؟ آپ نے فرمایا تمہارا باپ ایک روایت میں یوں ہے کہ آپنے اس شخص کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تمہاری ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہارا باپ پھر تمہارا وہ عزیز جو نزدیک کی قرابت رکھتا ہو۔ بخاری ومسلم
تشریح
اس دنیا کے معاشرہ کی اصلاح و فلاح دراصل باہمی حقوق و نگہداشت تعلق و قرابت کی پاسداری ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اور احسان و بھلائی کے برتاؤ اور اس حسن سلوک میں فرق مراتب کے احساس پر منحصر ہے شریعت اسلامی کا تقاضا ہے کہ انسان اس دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ جس تعلق و قربت کا رشتہ رکھتا ہے اور اس تعلق و قرابت میں جو فرق مراتب سے ادائیگی حقوق اور حسن سلوک کے باہمی معاملات میں اس کا لحاظ ضروری ہے ظاہر ہے کہ قرابت کے اعتبار سے ماں کا رشتہ سب سے زیادہ گہرا اور اس کا تعلق سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے لہذا کسی شخص کے احسان و حسن سلوک اور خدمت گزاری کی سب سے زیادہ مستحق جو ذات ہوسکتی ہے وہ ماں ہے ماں کے بعد باپ ہے اور پھر دوسرے قرابتی رشتہ دار ہیں لیکن ان قرابتی رشتہ داروں میں بھی تعلق و قرابت کے درجات و مراتب کی رعایت کی جائے گی جو رشتہ دار اپنے رشتہ کے اعتبار سے جتنا زیادہ قریب ہوگا وہ اتنا ہی زیادہ مقدم رکھا جائے گا مذکورہ بالا حدیث میں اسی ضابطہ کو بیان فرمایا گیا ہے۔ بعض حضرات نے اس حدیث کے الفاظ سے ایک مسئلہ یہ اخذ کیا ہے کہ کسی شخص پر والدین کے ساتھ حسن سلوک و بھلائی کرنے کے جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان میں ماں کا حصہ باپ سے تین گنا بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ حمل کا بوجھ اٹھاتی ہے ولادت کی تکلیف و مشقت اور دودھ پلانے کی محنت و برداشت کرتی ہے۔ فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اولاد پر ماں کا حق باپ کے حق سے بڑا ہے اور اس کے ساتھ حسن سلوک و بھلائی اور اس کی خدمت و دیکھ بھال کرنا زیادہ واجب ہے اور اگر ایسی صورت پیش آجائے جس میں بیک وقت دونوں کے حقوق کی ادائیگی دشوار ہوجائے مثلا ماں باپ کے درمیان کسی وجہ سے ان ابن ہو اور لڑکا اگر ماں کے حقوق کی رعایت کرتا ہے تو باپ ناراض ہوتا ہے اور اگر باپ کے حقوق کا لحاظ کرتا ہے تو ماں آزردہ ہوتی ہے تو ایسی صورت میں یہ درمیانی راہ نکالی جائے گی کہ تعظیم و احترام میں تو باپ کے حقوق کو فوقیت دے اور خدمت گزاری نیز مالی امداد و عطا میں ماں کے حق کو فوقیت دے۔ ماں باپ کے حقوق کی فہرست بہت طویل ہے بلکہ ان کے مربہ و درجہ کو دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ اولاد اگر اپنی پوری زندگی بھی ان کے حقوق کی ادائیگی میں صرف کر دے تب بھی ان کے تئیں اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتی تاہم شریعت نے کچھ چیزیں ایسی بیان کردی ہیں جو زیادہ اہمیت کی ہیں اور جن کا لحاظ ہر صورت میں ہونا چاہیے مثلا سب سے پہلے تو یہ کہ ان کی جائز خواہشات کی تکمیل اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم جانا جائے اور ان کی رضا و خوشنودی کو اپنے حق میں ایک بڑی سعادت سمجھی جائے اپنی حثییت و استطاعت کے ان کی ضروریات اور ان کے آرام و راحت میں اپنا مال و اسباب خرچ کیا جائے اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے جو ان کی شان کے مطابق ہو اولاد ان کے سامنے تواضع و انکساری اختیار کرے ان کے سامنے ملائمت و نرمی اور خوشامدی و عاجز کا رویہ اپنائے اور جہاں تک ہو سکے ان کی خدمت کرتے تاآنکہ وہ راضی اور خوش ہوں، ان کی اطاعت و فرمانبرداری میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے، لیکن اطاعت و فرمانبرداری ان ہی امور میں کی جانی چاہیے جو مباح ہوں ان کے ساتھ کوئی ایسا رویہ نہیں اپنانا چاہیے جس سے ان کی شان میں بےادبی و گستاخی ظاہر ہوتی ہو اور نہ ان کے ساتھ تکبر و انانیت کے ساتھ پیش آنا چاہیے خواہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں بات چیت کے وقت اپنی آواز کو ان کی آواز سے اونچی نہ کرے اور نہ ان کا نام لے کر ان کو یاد مخاطب کرنا چاہیے کسی کام میں ان سے پہل نہ کرنا چاہیے اور نہ ان کے مقابلہ پر خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اسی طرح اس بات کو بھی ملحوط رکھنا چاہیے کہ اگر والدین غیر شرعی امور کے مرتکب ہوں تو ان کے سامنے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی کے وقت بھی ادب کو اور نرمی و ملائمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے اور ایک دفعہ کہنے پر وہ باز نہ آئیں تو پھر سکوت اختیار کرلیا جائے اور ان کے حق میں دعا و استغفار کرتے رہنا چاہیے اور یہ بات قرآن کی اس آیت سے اخذ کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم کی طرف سے اپنے باپ کے سامنے نصیحت و موعظت کا ذکر ہے۔
Top