Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 428
وعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَطُوْفُ عَلٰی نِسَآئِہٖ بِغُسْلٍ وَّاحِدٍ۔(صحیح مسلم)
غسل کا بیان
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ایک غسل کے ساتھ اپنی ازواج مطہرات سے صحبت کرلیا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک شب میں اپنی تمام ازواج مطہرات سے صحبت کیا کرتے تھے اور غسل ایک ہی مرتبہ آخر میں فرماتے تھے یہ نہیں تھا کہ ایک بیوی سے صحبت کے بعد پہلے غسل کرتے ہوں، پھر بعد میں دوسری بیوی کے پاس جاتے ہوں۔ ہاں اس کا احتمال ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ درمیان میں وضو فرما لیتے ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیان جواز کے لئے آپ ﷺ نے وضو کو ترک کردیا ہو۔ اس موقع پر ایک ہلکا سے اعتراض ہوسکتا ہے وہ یہ کہ قاعدہ شرعی کے مطابق اپنی بیویوں کے درمیان تقسیم کا اقل درجہ ایک رات ہے۔ یعنی اگر کسی آدمی کے پاس چند بیویاں ہوں تو ان کے درمیان باری مقرر کرنے کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر ایک بیوی کے یہاں کم از کم ایک پوری شب قیام کیا جائے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ ایک ہی رات میں تمام ازواج مطہرات کے پاس کس طرح جایا کرتے تھے؟ اس کا جواب یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے لئے باری مقرر کرنے کا یہ وجوب مختلف فیہ ہے، چناچہ حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ پر باری مقرر کرنا واجب نہیں تھا۔ بلکہ آپ ﷺ نے از خود راہ احسان باری مقرر فرما رکھی تھی مگر اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر بھی باری مقرر کرنا واجب تھا۔ لیکن آپ ﷺ اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی شب میں خود ان کی رضا و خوشی سے جایا کرتے تھے لہٰذا اس پر کوئی اشکال پیدا نہیں ہوسکتا۔
Top