Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 2827
وعن عطية السعدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يبلغ العبد أن يكون من المتقين حتى يدع ما لا بأس به حذرا لما به بأس . رواه الترمذي وابن ماجه
کامل پرہیزگاری کا درجہ
اور حضرت عطیہ سعدی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بندہ اس وقت تک کامل پرہیزگاروں کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں کوئی قباحت نہیں ہے تاکہ اس طرح وہ ان چیزوں سے بچ سکے جن میں قباحت ہے (ترمذی ابن ماجہ)
تشریح
شرعی نقطہ نظر سے متقی یعنی پرہیزگار وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو ان چیزوں سے دور رکھے جنہیں اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے عذاب کا سبب ہو۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ تقوی یعنی پرہیزگاری کے تین درجے ہیں۔ اول شرک سے اجتنا ب چنانچہ جو بندہ شرک سے بچتا ہے وہ دائمی عذاب سے نجات پاتا ہے اس آیت کریمہ (وَاَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى) 48۔ الفتح 26) ( اور اللہ نے ان مؤمنوں کو پرہیزگاری کی بات (یعنی توحید پر قائم کیا) میں یہی درجہ مراد ہے۔ دوم ہر گناہ یہاں تک کہ صغیرہ گناہوں سے بھی اجتناب۔ چناچہ بعض علماء کے نزدیک تقوی کی جو مشہور شرعی اصطلاح ہے اس کا اطلاق اسی درجہ پر ہوتا ہے اور اس آیت کریمہ (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰ ي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا) 7۔ الاعراف 96) (اور اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور پرہیزگار ہوجاتے) میں بھی یہی درجہ مراد ہے۔ سوم ہر چیز میں پوری احتیاط ملحوظ رکھنا یہاں تک کہ بعض مباح چیزوں کو بھی احتیاط اور مصلحت کے پیش نظر ترک کردینا اپنا دل غیر اللہ میں نہ لگانا اور غیر اللہ سے اپنا دھیان ہٹا کر صرف اسی کی طرف متوجہ رکھنا چناچہ اس آیت کریمہ (يٰ اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِھ) 3۔ آل عمران 102) (اے مؤمنو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) میں تقوی کے یہی معنی مراد ہیں اور مذکورہ بالا حدیث میں بھی تقوی یعنی پرہیزگاری کا یہی کامل درجہ مراد ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ کوئی بندہ اس وقت تک پورا متقی و پرہیزگار نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اس خوف کی وجہ سے مباح چیزیں بھی نہیں چھوڑ دیتا کہ مبادا یہ مباح چیز کسی حرام یا مکروہ یا مشتبہ چیز تک پہنچنے کا ذریعہ بن جائے مثلا اگر وہ شادی شدہ نہ ہو تو شہوت کا غلبہ بھی زیادہ ہوتا ہے اسی طرح خوشبو وغیرہ نہ لگائے اور نہ کوئی ایسی مباح چیز استعمال کرے جس سے جذبات میں ہیجان پیدا ہوتا ہو بہرکیف حرام مکروہ اور مشتبہ چیزوں سے اجتناب کے بعد احتیاط کے پیش نظر بعض مباح چیزوں سے بھی بچنا تقوی و پرہیزگاری کا کامل ترین درجہ ہے چناچہ حضرت عمر فاروق ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ہم لوگ حرام میں مبتلا ہوجانے کے خوف سے دس حلال حصوں میں سے نو حصے چھوڑ دیتے تھے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں منقول ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم لوگ حرام میں مبتلا ہوجانے کے خوف سے از قسم مباح ستر حصے ترک کردیتے تھے۔
Top