Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 2817
وعن أبي حجيفة أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن ثمن الدم وثمن الكلب وكسب البغي ولعن آكل الربا وموكله والواشمة والمستوشمة والمصور . رواه البخاري
خون بیچنا حرام ہے
اور حضرت ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خون کی قیمت کتے کی قیمت اور بدکار عورت کی اجرت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کے استعمال سے منع فرمایا ہے نیز آپ نے سود لینے والے اور سود دینے والے گودنے والے اور گودوانے والے اور مصور پر لعنت فرمائی ہے۔
تشریح
خون کی قیمت سے منع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے خون کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے کیونکہ خون نجس ہوتا ہے اور اس کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ جس چیز کی خریدوفروخت ناجائز ہوتی ہے اس کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والا مال بھی ناجائز ہوتا ہے بعض حضرات نے ثمن الدم (خون کی قیمت) کو سینگی کھینچنے والے کی اجرت پر محمول کیا ہے اس صورت میں ممانعت کا تعلق مکروہ تنزیہی سے ہوگا کتے کی قیمت اور بدکار عورت کی اجرت کے بارے میں گزشتہ احادیث میں بیان کی جا چکی ہے۔ گودنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جسم کے کسی حصہ پر یا پورے جسم پر سوئی سے گود کر سرمہ یا تیل بھر دیتے ہیں جس سے سرمئی یا نیلے داغ ہوجاتے ہیں چناچہ آپ نے گودنے والے پر بھی اور گودوانے والے پر بھی لعنت فرمائی ہے۔ کیونکہ یہ فاسقوں اور غیر مسلموں کا کام ہے نیز اس طریقہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا شدہ جسم کی اصل خلقت میں تغیر وبدنمائی ہوتی ہے اگر کسی مسلمان کے جسم پر گودنے کے داغ ہوں تو اس کے بارے میں تعلیق القرار میں لکھا ہے کہ اسے کسی بھی تدبیر سے مٹا دیا جائے اور اگر زخم و خراش پیدا کئے بغیر کسی بھی تدبیر سے اس کو مٹانا ممکن نہ ہو تو پھر چھوڑ دیا جائے ان کو مٹانے کے لئے زخم وخراش کی تکلیف برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم بہرصورت اس قبیح فعل پر ندامت کے ساتھ توبہ کی جائے توبہ کے بعد گناہگار نہیں رہے گا۔ آپ نے مصور پر بھی لعنت فرمائی ہے لیکن مصور سے مراد یہ ہے وہ جانور کا فوٹو کھینچنے یا جاندار کی تصویر بنائے یا تصویر گاڑھے غیر جاندار چیزوں مثلا مکانات درخت اور پہاڑ وغیرہ کی تصویریں کھینچنا بنانا اور گاڑنا درست ہے۔ خطابی نے لکھا ہے کہ تصویر کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک تو یہ ہے کہ جس چیز پر تصویر بنائی جاتی ہے وہ چیز تصویر کی ایک ضمنی شئ ہوتی ہے اور تصویر مقصود بالذات ہوتی ہے مثلا جب فوٹو کھینچا جاتا ہے یا کاغذ پر تصویر بنائی جاتی ہے تو اس فوٹو یا تصویر کے کاغذ کی حیثیت محض ضمنی ہوتی ہے اصل مقصد کا تعلق تصویر سے ہوتا ہے دوسری قسم یہ ہے کہ جس چیز پر تصویر بنی ہوئی ہوتی ہے وہ چیز مقصود بالذات ہوتی ہے اور تصویر اس چیز کا ایک ضمنی وصف ہوتا ہے مثلا برتن دیواروں چھتوں قالینوں اور پردوں وغیرہ پر بنی ہوئی تصویریں۔ لہذا دوسری قسم کی خریدو فروخت جائز ہے جب کہ بنانا دونوں ہی کا ناجائز ہے۔
Top