Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 2189
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ سورة الواقعة في كل ليلة لم تصبه فاقة ابدا . وكان ابن مسعود يأمر بناته يقرأن بها في كل ليلة . رواه البيهقي في شعب الإيمان
سورت واقعہ کی تاثیر
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص شب میں سورت واقعہ پڑھتا ہے وہ کبھی بھی فاقہ کی حالت کو نہیں پہنچتا حضرت ابن مسعود ؓ اپنی صاحبزادیوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ ہر شب میں یہ سورت پڑھا کریں۔ (ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے)۔
تشریح
فاقہ کے معنی ہیں محتاجگی اور حاجت مندی۔ لہٰذا اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص روزانہ رات میں سورت واقعہ پڑھتا ہے اس کے لئے محتاجگی، نقصان و پریشانی کا باعث نہیں بنتی اس وجہ سے کہ اسے صبر و قناعت کی دولت فرما دی جاتی ہے یا یہ کہ ایسے شخص کو دل کی محتاجگی نہیں ہوتی یعنی ظاہری محتاجگی کے باوجود اس کا دل مستغنی ہوتا ہے کیونکہ اس کے قلب میں وسعت و فراخی عطا کی جاتی ہے، معرفت الٰہی حاصل ہوتی ہے اور توکل و اعتماد کا سرمایہ اس کے قلب و روح میں طمانیت پیدا کردیتا ہے اور اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص اس سورت کے معانی و مفہوم سے استفادہ کرتا ہے۔ بہرکیف اتنی بات جان لینی چاہئے کہ شارع نے بعض ان عبادات و نیکیوں کی طرف رغبت دلائی ہے جو نہ صرف یہ کہ اخروی طور پر باعث فلاح وسعادت ہوتی ہیں بلکہ ان دنیاوی امور میں بھی نافع اور موثر بنتی ہیں جن کا حصول دین کے لئے ممد و معاون ہوتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ بہر صورت کسی نہ کسی طرح عبادت اور نیک کاموں میں مصروف رہیں۔
Top