Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 4369
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل الحمام بغير إزار ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل حليلته الحمام ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يجلس على مائدة تدار عليها الخمر . رواه الترمذي والنسائي .
حمام میں جانے کا ذکر
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی عورت کو حمام میں داخل نہ ہونے دے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور چلتا ہو۔ (ترمذی، نسائی )
تشریح
اپنی عورت کو حمام میں داخل نہ ہونے دے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بیوی کو حمام میں جانے کی اجازت نہ دے اس حکم میں ماں، بیٹی اور بہن وغیرہ ایسی عورتیں بھی شامل ہیں جو اس (مرد) کے قابو و اختیار میں ہوں، نیز مرد کے لئے یہ مکروہ ہے کہ وہ حمام میں جانے کی اجرت دینے کے لئے اپنی بیوی وغیرہ کو روپیہ پیسہ دے کیونکہ اس صورت میں وہ ایک مکروہ عمل کا مددگار بنے گا۔ فقہ کی بعض کتابوں میں آنحضرت ﷺ کا حمام میں جانا نقل کیا گیا ہے لیکن محدثین کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے اور اس کے بارے میں حدیث منقول ہے اس کو موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ بات درجہ صحت پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ آنحضرت ﷺ کبھی بھی حمام میں نہیں گئے ہیں بلکہ آپ ﷺ نے حمام کی صورت بھی کبھی نہیں دیکھی! رہی اس حمام کی بات جو مکہ معظمہ میں حمام النبی ﷺ کے نام سے مشہور ہے تو ہوسکتا ہے کہ جس جگہ آنحضرت ﷺ نے کبھی غسل کیا ہوگا اس کو حمام کی صورت دے دی گئی ہو اور پھر اس کو حمام النبی ﷺ کہا جانے لگا ہو، نیز ایک احتمال یہ بھی ہے کہ وہ جگہ حمام النبی ﷺ اس مناسبت سے زبان زد خاص و عام ہوگئی ہو کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش مبارک کی جگہ اسی مقام کے اطراف و جوانب میں واقع ہے تاہم احادیث میں حمام کا ذکر ضرور موجود ہے جیسا کہ مذکورہ روایات سے ظاہر ہوا۔ اس دسترخوان پر نہ بیٹھے کا مطلب یہ ہے کہ اس جگہ ہرگز نہ جائے جہاں شراب کا دور چلتا ہو اور شرابی لوگ وہاں مے نوشی کرتے ہوں۔ لہٰذا وہاں جانے والا مسلمان اگر شراب نوشی میں شامل نہ بھی ہو تو اس صورت میں اس پر یہ تو واجب ہو ہی گا کہ وہ وہاں شراب پینے والوں کو اس برے فعل سے روکے لیکن وہاں پہنچ جانے کے باوجود اگر اس نے نہ تو ان لوگوں کو شراب پینے سے روکا، نہ ان سے بےاعتنائی کا برتاؤ کیا اور نہ ان کے خلاف اپنی نفرت و غصہ کا اظہار کیا تو یقینا اس کا شمار کامل مؤمنین میں نہیں ہوگا۔
Top